تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 19
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ گا کیونکہ وہ شخص میرے کہنے پر تمہارے پاس گیا۔اور اس نے مظلوم ہونے کے باوجود تم سے معافی مانگی۔مگر تم نے باوجود ظالم ہونے کے اور باوجود اس کے معافی مانگ لینے کے اس کے حقوق کی ادائیگی کا خیال نہ کیا۔اور تم نے اپنے دل میں یہ سمجھ لیا کہ وہ نیچا ہو گیا پس اپنے نفوس کو اس غرور میں مبتلا نہ ہونے دو کہ ہم نے دوسرے کو نیچا دکھا دیا کیونکہ وہ معافی مانگ کرنچا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اونچا ہو گیا۔کیونکہ اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور خلیفہ وقت کی بات مانی مگر تم جو اس وقت اپنے آپ کو اونچا سمجھ رہے ہو دراصل نیچے گر گئے جس طرح انسان جتنا اللہ تعالی کے حضور سجدہ میں جھکتا ہے اتنا ہی اس کا درجہ بلند ہوتا ہے۔حتی کہ حدیثوں میں آتا ہے جو شخص خدا کے لئے نیچے جھکتا ہے۔خدا اس کو اوپر اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے بھائی سے معافی مانگتا ہے وہ نیچے نہیں گرتا بلکہ اس کا درجہ بلند ہوتا اور خدا کے حضور بہت بلند ہو جاتا ہے"۔کچھ عرصہ بعد جبکہ جماعتی مخالفت زوروں پر دوبارہ تحریک اور زبردست انتباه تھی جماعت کے ایک طبقہ میں اندرونی مناقشات نے پھر سر اٹھایا۔اور اس تحریک کے اثرات زائل ہوتے نظر آئے تو مقدس امام نے ۲۶/ مئی ۱۹۳۵ء کو پھر توجہ۔ولائی کہ۔کوئی احمق ہی اس وقت اپنے بھائی سے لڑ سکتا ہے۔جب کوئی دشمن اس کے گھر پر حملہ آور ہو ایسے نازک وقت میں اپنے بھائی کی گردن پکڑنے والا یا تو پاگل ہو سکتا ہے یا منافق۔ایسے شخص کے متعلق کسی مزید غور کی ضرورت نہیں وہ یقیناً یا تو پاگل ہے اور یا منافق اس لئے آج چھ ماہ کے بعد میں پھر ان لوگوں سے جنہوں نے اس عرصہ میں کوئی جھگڑا کیا ہو۔کہتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں تو بہ کریں۔ورنہ خدا کے رجسٹر سے ان کا نام کاٹ دیا جائے گا اور وہ تباہ ہو جائیں گے منہ کی احمدیت انہیں ہرگز ہر گز نہیں بچا سکے گی۔ایسے لوگ خدا کے دشمن ہیں۔رسول کے دشمن ہیں۔قرآن کے دشمن ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمن ہیں۔ایسے لوگ خون آلود گندے چیتھڑے کی طرح ہیں جو پھینک دیئے جانے کے قابل ہیں۔اس لئے ہر وہ شخص جس نے اپنے بھائی سے جنگ کی ہوئی ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ خدا کا غضب اس پر نازل ہو وہ ہمیشہ کے لئے صلح کرلے اور پھر کبھی بھی نہ لڑے"۔صوبہ سرحد کے سرخ پوش مسلمانوں پر حکومت کی سخت گیر پالیسی اور قادیان میں یوم سرحد تشدد نے ایک قیامت کی بپا کر دی تھی اس ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کے طور پر ( آل انڈیا مسلم کانفرنس دہلی کے فیصلہ کے مطابق ) ۵ / فروری ۱۹۳۲ء کو ملک کے دو سرے