تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 358
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ام سوم ۳ پر نقصان پہنچایا ہے آج زوروں پر ہے اور ۲۵ فیصدی کے حامی کسی مقام پر ٹھرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہندوستان کی قسمت ہندوؤں کے سپرد کر کے مسلمانان ہند کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کے لئے بضد ہیں"۔(انقلاب لاہو ر ۹/ تمبر ۱۹۴۶ء صفحہ ۱۔بحوالہ فسادات ۱۹۵۳ء کا یس منظر صفحہ ۱۹-۲۰(مولفه ملک فضل حسین صاحب) آزادی کا تحفہ پنڈت نہرو جی کی خدمت کہا جا سکتا ہے کہ ہندو کی چوکھٹ پر مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے جھکانے کا رجحان محض احرار کے میں پیش کر دینے کا لرزہ خیز اعلان عوامی ذہن کی پیداوار ہے اور امیر شریعت احرار سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری جیسے بلند پایہ احراری لیڈر اس سے مستثنیٰ ہیں مگر نہیں ایسا ہرگز نہیں۔حق یہ ہے کہ جب ہم احراری تاریخ کے گزشتہ اوراق کھنگالتے ہیں تو ہم پر اس درد ناک حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ شاہ صاحب جو بقول شورش کا شمیری سیاست میں ابو الکلام صاحب آزاد کے مقلد تھے۔اس باب میں اپنے پیرو مرشد سے بھی بہت آگے دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے احرار پولٹیکل کانفرنس امرتسر میں ۱۹ مئی ۱۹۳۶ء کو احراری پر چم لہراتے ہوئے بڑی بلند آہنگی سے یہ 21- et اعلان کیا کہ۔مسلمانوں نے دو صد سال کے بعد کروٹ لی ہے اور اگر اس بات پر فخر کیا جائے کہ کامل آزادی کا جھنڈا مسلمانوں کی جماعتوں میں سے سب سے پہلے ہم نے بلند کیا تو بجا ہے بلاشبہ پنڈت جواہر لال نہرو جی نے بھی یہ آزادی کا جھنڈا بلند کیا تھا خدا انہیں استقامت دے اور دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دے مگر یہ نعمت چونکہ ہم نے چھینی ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اسے حاصل کر کے پنڈت جی کی خدمت میں پیش کریں۔۔۔۔۔کوشش کرو کہ ہر مسلمان جواہر لال نہرو جیسا خطبہ پڑھے مسلمانوں کا حق ہے کہ آزادی حاصل کر کے دیگر اقوام کے سامنے بطور تحفہ پیش کریں اور خود خدمت خلق میں مصروف ہو جائیں۔ہم کو کسی چیز پر قابض ہو کر تسلط جما کر بیٹھنا نہیں چاہئے"۔