تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 346
اريخ احمد ۳۳۲ خلاف پیدا ہوتے ہیں۔کانگریس ان رجحانات کی مخالفت میں ایک مسلسل جد وجہد کا نام ہے من حیث القوم ہماری کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کی طرف سے ایک واہمہ پیدا کر دیا گیا ہے کہ مذہب یا زبان کا رشتہ قومیت کے رشتہ کی جگہ وجہ جامعیت ہو سکتا ہے یہ ایک بڑا مہلک دھوکا ہے۔یاد رکھئے مذہب یا زبان کا رشتہ قومیت کے بلند ترین رشتہ کے ماتحت رہنا چاہئے۔یہ تصور ہی ہندوستان کو محکم اور آزاد بنا سکے گا۔(نیشنل کال ۲۰/۹/۲۹) مسٹر بھولا بھائی ڈیسائی ( کانگرسی پارٹی کے لیڈر) نے قومیت متحدہ کی تشریح میں کہا۔”اب یہ نا ممکن ہو گا کہ کوئی ایسا نظام حکومت قائم کیا جائے جس کی بنیاد مذہب پر ہو۔اب وقت آچکا ہے کہ ہم اس امر کا اعتراف کرلیں اور اسے اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ ضمیر، مذہب اور خدا کو ان کے مناسب مقام یعنی آسمان کی بلندیوں پر رکھ دیا جائے اور انہیں خواہ مخواہ زمین کے معاملات میں گھسیٹ کر نہ لایا جائے۔اس بات کا تصور بھی نا ممکن ہے کہ اگر مذہب کو سیاست سے الگ نہ کیا جائے تو کوئی نظام حکومت قائم ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔عہد حاضر میں بہترین نظام حکومت کی بناء اس نظریے پر قائم ہو سکتی ہے کہ جغرافیائی حدود کے اندر گھرا ہوا ایک ملک ہو اور اس ملک کے اندر رہنے والے تمام افراد معاشی اور سیاسی مفاد کے رشتہ میں منسلک ہو کر ایک متحدہ قومیت بن جائیں"۔(ہندوستان ٹائمز ۵/۹/۳۸) متحدہ قومیت کی موجودگی میں مسلم قوم کا تخیل اور پنڈت جواہر لال صاحب نہرو مسلم قومیت کا کوئی تصور کانگریسی لیڈروں کے یہاں قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا۔اسی لئے پنڈت جواہر لال نہرو نے " دو قوموں“ کے نظریہ کا مذاق اڑاتے ہوئے میری کہانی " میں لکھا۔” ہندوستان میں مسلم قومیت پر زور دینے کا مطلب اب کیا ہو تا بس یہی کہ ایک قوم کے اندر ایک دوسری قوم موجود ہے جو یکجا نہیں منتشر ہے مہم ہے اور غیر متعین ہے۔سیاسی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو یہ تخیل بالکل لغو معلوم ہوتا ہے اور معاشی نقطہ نظر سے یہ بہت دور از کار ہے۔۔۔مسلم قومیت کا ذکر کرنے کے معنے یہ ہیں کہ دنیا میں کوئی قوم ہی نہیں بس مذہبی اخوت کا رشتہ ہی ایک چیز ہے مسلم قوم کا تخیل تو صرف چند لوگوں کی من گھڑت اور محض پرواز خیال ہے۔اگر اخبارات اس کی اس قدر اشاعت نہ کرتے تو بہت تھوڑے لوگ اس سے واقف ہوتے اور اگر زیادہ لوگوں کو اس پر اعتقاد ہوتا بھی تو حقیقت سے دو چار ہونے کے بعد اس کا خاتمہ ہو جاتا۔ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو ہندو مسلمانوں کا ذکر اس طور پر کرتے ہیں گویا دو ملتوں اور قوموں کے بارے میں گفتگو ہے جدید دنیا میں