تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 338
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۲۴ کو رونق دی تھی بلکہ ایک آدھ مرایسے شخص کی چھاپ دی تھی جو قبل غدر مر چکا تھا۔مگر مشہور ہے کہ چند آدمیوں نے فوجی باغی بریلی اور اس کے مفسد ہمراہیوں کے جبر اور ظلم سے مہریں بھی کی تھیں۔دلی میں ایک بڑا گروہ مولویوں اور ان کے تابعین کا ایسا تھا کہ وہ مذہب کی رو سے معزول بادشاہ دلی کو بہت برا اور بدعتی سمجھتے تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ دلی کی جن مسجدوں میں بادشاہ کا قبض و دخل اور اہتمام ہے ان مسجدوں میں نماز درست نہیں۔چنانچہ وہ لوگ جامع مسجد میں بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔اور غدر سے بہت قبل کے چھپے ہوئے فتوے اس معاملے میں موجود ہیں۔پھر کبھی عقل قبول کر سکتی ہے کہ ان لوگوں نے جہاد کے درست ہونے میں اور بادشاہ کو سردار بنانے میں فتوی دیا ہو۔جن لوگوں کی مہر اس فتوے پر چھاپی گئی ہے۔ان میں سے بعضوں نے عیسائیوں کو پناہ دی اور ان کی جان اور عزت کی حفاظت کی ان میں سے کوئی شخص لڑائی پر نہیں چڑھا مقابلے پر نہیں آیا۔اگر واقع میں وہ ایسا ہی سمجھتے جیسا کہ مشہور ہے تو یہ باتیں کیوں کرتے غرض کہ میری رائے میں کبھی مسلمانوں کے خیال میں بھی نہیں آیا کہ باہم متفق ہو کر غیر مذہب کے حاکموں پر جہاد کریں۔اور جاہلوں اور مفسدوں کا غلغلہ ڈال دینا کہ جہاد ہے جہاد ہے۔ایک نعرہ حیدری پکارتے پھرنا قابل اعتبار کے نہیں "۔علماء اہلحدیث اور غدر ۱۸۵۷ء ہے۔اہلحدیث ہمیشہ انگریز دشمنی میں بدنام رہے ہیں مگر جیسا کہ اہلحدیث عالم مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت ۱۸۵۷ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا۔بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی و فساد و عناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت قرار دیا اور اس کے برعکس اس غدر میں گورنمنٹ کی خیر خواہی کی اور عین طغیانی طوفان بے تمیزی میں ایک زخمی لیڈی (زوجہ مسٹریسن) کی جان بچائی اور اس کے زخم کے معالجہ کے بعد وہ سرکاری کیمپ میں پہنچائی جس پر گورنمنٹ کی طرف سے بھی قدردانی و توجہ ہوئی "۔ایک دوسرے عالم اہلحدیث نواب مولوی صدیق حسن خان صاحب رئیس اعظم بھوپال نے کتاب ہدایتہ السائل اور دوسری متعدد کتابوں میں لکھا۔ہندوستان کے بلاد دار الاسلام ہیں نہ دار الحرب۔۔۔برٹش گورنمنٹ سے ہندوستان کے تمام رؤساء و رعایا کا ہمیشہ کے لئے معاہدہ دوستی ہو چکا ہے۔لہذا ہندوستان کے کسی شخص کا برٹش گورنمنٹ سے جہاد کرنا اور اس معاہدہ کو توڑنا جائز نہیں ہے۔