تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 330 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 330

تاریخ احمدیت - جلد ۲ ۳۱۶ دو سرا باب (فصل اول) احرار اور حکومت انگریزی کی طرف سے منظم مخالفت پس منظر، تفصیل اور اثرات و نتائج حضرت خلیفہ اسی الثانی کا قبل از وقت افتاد سید نا حضر علیہ اسی اشانی ۱۷ المسیح ۱۹۲۷ سے اپنی خداداد بصیرت اور روحانی و کشفی قوت کی بناء پر جماعت کو متنبہ کرتے آرہے تھے کہ وہ زمانہ قریب ہے جس میں رحمان اور شیطان کی آخری جنگ مقدر ہے۔جس کے لئے جماعت کو بہت زیادہ ہو شیار اور بیدار ہونا چاہئے۔بہت زیادہ قربانیاں کرنی چاہئیں اور بہت زیادہ زور اور توجہ سے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ حضور احمدیوں کو قبل از وقت ہو شیار کرتے ہوئے بتا چکے تھے کہ دس سال کے اند ر ہندوستان میں ایسا تغیر ہونے والا ہے جو سچ اور جھوٹ کا فرق کھول کر رکھ دے گا اور دنیا پر یہ روشن کر دے گا کہ کس جماعت کو ہندوستان میں رہنا چاہئے۔اور کس کو نہیں چنانچہ حضور نے ۷ ۱۹۲ء کی مجلس شوری کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔" آج سے دس سال کے اندر اندر ہندوستان میں اس بات کا فیصلہ ہو جانے والا ہے کہ کون سی قوم زندہ رہے اور کس کا نام و نشان مٹ جائے۔حالات اس سرعت اور تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ جو قوم یہ سمجھے کہ آج سے ۲۰-۲۵ سال بعد کام کرنے کے لئے تیار ہو گی۔وہ زندہ نہیں رہ سکے گی اور جو قوم یہ خیال رکھتی ہے وہ اپنی قبر آپ کھودتی ہے اگر دس سال کے اندراندر ہماری جماعت نے فتح نہ پائی اور وہ تمام راہیں جو ارتداد کی ہیں بند کر کے وہ تمام دروازے جو اسلام قبول کرنے کے ہیں کھول نہ دیئے۔تو ہماری جماعت کی زندگی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔یاد رکھو کبھی کسی قوم کی مدت خواہ وہ کتنے بڑے نبی سے وابستہ ہو غیر منتہی زمانہ تک نہیں چلتی جب تک ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدا کردہ طاقت ہے اس وقت تک اگر ہم نے دنیا فتح نہ کی تو جب مردہ ہو جائیں گے اس وقت کیا کریں گے۔اگر تم لوگ اس فورس اور اس قوت اور اس روح سے جو حضرت