تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 314
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ ۲۹۴ الفضل یکم جون ۱۹۳۳ء صفحه ۵۰۴ کالم ۱ تا ۴ ۲۹۵ - الفضل ۱۸/ جولائی ۱۹۳۳ء صفحه ۳-۴- ٢٩٦ - الفضل ۱۰ / اگست ۱۹۳۳ء صفحه ۴ کالم ۳ ٢٩٧ - الفضل ۲۹/ اکتوبر ۱۹۳۳ء صفحه ۳-۴- ۲۹۸ ریکارڈ صد را انجمن احمد یہ قادیان (۲۰/ جنوری ۶۱۹۳۴ ) ٢٩٩- الفضل ۳۱ / دسمبر ۱۹۳۳ء صفحه ۲ و صفحه ۱۲ کالم ۳- ۳۰۰- ایضاً صفحه ۲ کالم ۲ ۳۰۱ یعنی مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری۔۳۰۲ - الفضل ۷ / جنوری ۱۹۳۴ء صفحه ۴-۵- ۳۰۳۔صحابی حضرت مسیح موعود حضرت منشی احمد دین صاحب اپیل نویس آف گوجرانوالہ کی طرف اشارہ ہے جو عرصہ سے مالیر کوٹلہ اور لدھیانہ میں بودو باش رکھتے تھے۔اور قریباً اسی سال کی عمر میں ۶/ نومبر ۱۹۳۳ء کو وفات پاگئے۔٣٠٤ الفضل ۹ / جنوری ۱۹۳۴ء صفحه ۳ ۳۰۵ الفضل ۳ مارچ ۱۹۳۳ء صفحہ اکالم)۔٣٠٦ الفضل ۱۴ مئی ۱۹۳۳ء صفحہ اکالم - تفصیلی حالات الفضل ۷ / ستمبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۹ کالم ۱-۲ میں شائع ہو چکے ہیں۔جب حضرت خلیفہ اول انه احمدیت میں داخل ہو گئے تو آپ نے بھی یہ سمجھ کر بیعت کرلی کہ جب اتنا بڑا قرآن دان اور عاشق قرآن حضرت سیح موعود علیہ السلام کو سچا سمجھتا ہے تو یہ ضرور بچے ہوں گے۔دین کے معاملے میں بہت غیور اور جری تھے مگر اپنی ذات کی خاطر رنج اور ناراضی کو قریب نہ آنے دیتے۔حضرت مسیح موعود کو شروع ہی سے نبی قبول کیا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی نسبت پہلے ہی یقین تھا کہ خلافت کی قبا اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو پہنائی جائے گی۔مولوی محمد علی صاحب امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کو اکثر لمبے لمبے خط لکھتے رہتے تھے۔میرید بر شاہ صاحب مبلغ غیر مبایعین سے مسئلہ نبوت پر نہایت کامیاب مناظرہ بھی کیا۔آپ نے عمر کے آخری تین سالوں میں مختلف مسائل کے نوٹ تیار کرنے میں از حد محنت کی۔بہت دعا گو اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔(الفضل ۷ / ستمبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۹) ۳۰۷ الفضل ۱۲۱ ستمبر ۱۹۳۳ء حضرت قاضی میرحسین صاحب ملتانی کے چھوٹے بھائی تھے۔۹۸-۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی اور تمبر ۱۹۱۶ء میں مستقل طور پر قادیان آگئے۔ہجرت سے قبل آپ اپنے گاؤں میں امام مسجد تھے۔اور مذہبی مخالفت کے باوجود متعصب سے متعصب غیر احمدی بھی آپ کے زہد و تقویٰ کے قائل تھے اور آپ کی اقتداء میں نمازیں پڑھتے تھے۔صاحب کشف و الہام تھے اور قرآن مجید سے تو عشق تھا۔قریشی محمد افضل صاحب مبلغ افریقہ آپ ہی کے فرزند ہیں۔(قاضی عبدالرحمن صاحب کا مضمون مطبوعه الفضل ۲۹/ ستمبر ۱۹۳۳ء صفحه ۱۸ ۳۰۸ الفضل ۱۲/ نومبر ۱۹۳۳ء صفحه ۲ کالم -۲ ٣٠٩ - الفضل ۹/ جولائی ۱۹۳۳ء صفحہ ۹-۱۰ کالم ۱ تا ۳- امرتسر کی مشہور قاضی فیملی کے درخشندہ گوہر جنہیں اپنے خاندان میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل ہوا اور جنہوں نے حضرت اقدس کا نورانی چہرہ دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ منہ کاذب کا نہیں ہو سکتا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ چاروں طرف سے مخالفت کا ایک طوفان انڈا ہو ا تھا۔اشاعت حق کے لئے آپ کے دل میں بڑا جوش تھا۔آپ کی تبلیغ کا طریق عملی تھا۔یعنی اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ سے بہت کم سخن تھے۔مگر اخبارات اور سلسلہ کا لٹریچر تقسیم کرتے رہتے تھے۔راجپوتانہ میں آپ ہی کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ قائم ہوئی چنانچہ سانبھر میں قاضی برکات انیس صاحب اور قاضی رحمت اللہ صاحب کو ۱۹۰۳ء میں داخل سلسلہ ہونے کی سعادت نیب ہوئی اور جے پور میں بابو محمد عثمان صاحب اور عبد الغفور صاحب احمدی، انسپکٹر محکمہ نمک سانبھر جھیل نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی بیعت کرلی۔مرحوم مخلوق خدا کے ہمدرد مردم شناس اخلاقی جرات رو با حق کے مالک اور صاحب مروت انسان تھے اور ہر احمدی کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کا نشان سمجھ کر بہت قدر و عظمت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔(الفضل ۹ / جولائی ۱۹۳۳ء صفحہ ۵-۶)