تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 309 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 309

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۲۹۵ گئے۔(الفضل 9 اگست ۱۹۳۲ء ملخصا از مضمون جناب سید ابوالحسن صاحب قدى خلف الرشید صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شهید ۱۷۵ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے شاگرد خاص اور صاحب کشف بزرگ جو پہلی بار خوست سے ۱۸۹۷ء میں قادیان تشریف لائے ۱۹۰۳ء میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے سفر قادیان میں رفاقت سے مشرف ہوئے۔۱۹۰۴ء میں مستقل طور پر قادیان میں سکونت اختیار کرلی اور عمر بھر مہمان خانہ کے ایک چھوٹے سے حجرہ میں نہایت صبر و شکر کے ساتھ فقیرانہ رنگ میں اقامت گزین رہے۔(الفضل ۲۰/ اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۲ کالم ۲- ایضا الفضل ۳۰/ اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۸ کالم ۳) جناب مولوی عبد الرحیم خاں صاحب عادل تحریر فرماتے ہیں۔میں حضرت عبد الستار خان صاحب عرف بزرگ کے ایک تو کل علی اللہ کا ایک ذاتی مشاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ایک عرصہ دراز سے میرے ذہن میں اس طرح محفوظ ہے جیسے کل کی بات ہے۔میں یہ بیان حلفیہ تحریر کر رہا ہوں۔میں نے اپنے چچاد اد ا حضرت عبد الستار خان افغان عرف بزرگ صاحب کو بہت قریب سے بہت موقعہ دیکھا ہے۔میں ان کو منجی ابا" چار پائی والے ابا کہا کرتا تھا۔میں اکثر ان کے کمرہ میں جایا کرتا تھا۔جو مہمان خانے کے شمال مشرقی کو نہ میں تھا۔میں جب بھی گیا ہوں آپ کو چارپائی پر بیٹھے دیکھا۔ان کا کمرہ پٹھانوں سے بھرا ہوتا اور آپ درس قرآن کریم دے رہے ہوتے اور قہوہ کا دور جاری مجھے اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ حضرت بزرگ صاحب کو پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ وہ اپنی ضروریات کی چیزیں چاء چینی۔صابن وغیرہ میرے ابا جی حضرت عبداللہ خاں سے منگواتے۔یہ غالبا ۱۹۳۶ء ۱۹۲۷ء کا واقعہ ہے میری عمر اس وقت ۱۲- ۳ ابرس ہو گی۔میں حضرت بزرگ صاحب کی چارپائی کے پینتی (پاؤں) کی جانب کھڑا تھا۔حضرت اباجی سے حضرت بزرگ صاحب نے کچھ چیزیں بازار سے منگوائی تھیں۔جو ابا جی لے کر آئے تھے۔چیزیں خریدنے کے بعد اباجی کے پاس کچھ پیسے بچ گئے تھے۔(معلوم نہیں کتنے) حضرت ابا جی یہ پیسے حضرت بزرگ صاحب کے سرہانے تلمیہ کے نیچے رکھنے لگے۔جو نبی حضرت اباجی کا ہاتھ سرہانے کے نیچے گیا۔حضرت بزرگ صاحب جو چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے اس طرف دیکھا اور پشتو میں فرمایا۔سہ شہ دی " کیا بات ہے؟ حضرت اباجی نے پشتو میں جواب دیا۔ترجمہ ”کچھ پیسے سودا خریدنے کے بعد بچ گئے تھے یہ رکھ رہا ہوں صبح کام آجائیں گے حضرت بزرگ صاحب نے پشتو میں فرمایا "سہ شی نہ لگدے۔صبو تہ بیا خدائے نہ دی" ترجمہ کس لئے رکھ رہے ہو۔جو خدا آج ہے کیادہ صبح نہیں ہوگا اور پشتو میں فرمایا ترجمہ۔”ہٹاؤ اور دے دو غریبوں کو " شاید اس وقت آ جیسے یا ایک آنہ مجھے ملا اس وقت مجھے اس بات کی سمجھ نہیں تھی لیکن جب یہ بات یاد آتی ہے تو ان کے اس قدر زبر دست تو کل علی اللہ کے اعلیٰ مقام کا پتہ چلتا ہے اللہ اللہ سبحان اللہ کس قدر اونچا پر از یقین توکل علی اللہ کا مقام ہے کہ چند پیسے جو سودے سے بچ گئے وہ بھی کل کے لئے رکھنے گوارا نہیں۔کہیں خدا تعالٰی پر یقین اور ایمان میں تزلزل نہ آجائے میں پہلے عرض کر چکا ہوں میں یہ بیان حلفا لکھ رہا ہوں جو کچھ میرے ذہن میں محفوظ تھا ہی لکھا ہے میں چاہتا ہوں کر یہ واقعہ حضرت بزرگ صاحب کی سوانح حیات کے کسی حصہ میں سما دیا جائے تو یہ آپ کا بہت بڑا احسان ہو گا۔اللہ تعالٰی آپ کو اس کا اجر عظیم دے۔آمین۔حضرت بزرگ صاحب چار بھائی تھے۔حضرت عبد الغفار خاں صاحب مہاجر صحابی خاکسار کے دادا جان۔آپ حضرت شہزادہ صاحب کے پانچ خطوط شاہ کابل کے درباریوں کے نام لے کر کابل گئے تھے۔-۲- حضرت عبد الستار خان افغان عرف بزرگ صاحب حضرت شہزادہ صاحب کے رفیق خاص جنہیں حضرت شہزادہ صاحب نے اللہ تعالی سے حضرت مسیح موعود کے ظہور کی خبر پا کر بار بار " قادیان بھیجا۔آپ نے تمام عمر شادی نہیں کی اور تمام عمر دین کے حصول اور دین کی تعلیم و تبلیغ میں گزار دی آپ صاحب کشف والہام تھے۔-۳- حضرت ملاں میرد خان۔آپ شادی شدہ تھے مگر لاولد رہے۔آپ نے حضرت شہزادہ صاحب شہید کی نعش مبارک کو پہاڑی بالائی سارے متصل قبرستان سے نکال کر شہید موصوف کے اپنے گاؤں سید گاہ میں لا کر دفن کیا۔آپ حضرت مصلح موعود خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے بغیر وصیت کے بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔