تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 308
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ١٣٩- الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۳۲ء صفحه ۱۲ کالم ۳- ۱۵۰ الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۳۲ء صفحہ اکالم ۲- ۱۵۱ الفضل ۲۷/ نومبر ۱۹۳۲ء صفحه ۳-۸- ۲۹۴ ۱۵۲ الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۴ کالم ۳ - الفضل ۲۷/ نومبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۷-۱۰- ۱۵۳- الفضل رپورٹ سالانہ صیغہ جات صد را انجمن احمدیه ۳۳-۱۹۳۲ء- ۱۵۴- اصل خط دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفتہ المسیح کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔۱۵۵ غیر مطبوعه ۱۵۶ رپورٹ سالانہ صیغہ جات صد را مجمن احمد یہ ۳۳-۱۹۳۲ء صفحه ۵۹- ۱۵۷- اصل خط دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سید نا حضرت خلیفتہ اصبح کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔۱۵۸ روزنامه حقیقت لکھنو ۸/ نومبر ۱۹۳۲ء- ۱۵۹ روزنامه اودھ اخبار لکھنوها / نومبر ۱۹۳۳ء۔۱۲۰ روزنامه محمدم لکھنو مورخه ۱۳/ نومبر ۱۹۳۲ء- الفضل ۸/ جنوری ۱۹۳۳ء صفحہ ۴ کالم ۳۔۱۷۳ رپورٹ سالانہ صیغہ جات صدر انجمن احمد یه ۳۲- ۱۹۳۳ء صفحه ۱۳۰ تا۱۳۲- الفضل ۲۹/ نومبر ۱۹۳۲ء صفحہ اکالم ۱ الفضل ۱۳؍ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحہ اکالم اور سالہ جامعہ احمدیہ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحہب۔۱۹۵ - الفضل ۱۶ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحه ۱۰- الفضل ۴/دسمبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۰ ۱۲۷- الفضل ۶/ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۰۔۱۲۸ الفضل ا/ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۹ کالم ۲۔۱۷۹ - الفضل ۱۳ دسمبر ۱۹۳۲ء- ۱۷۰۔سالانہ رپورٹ صدرا مجمن احمد یہ ۳۳-۱۹۳۲ء صفحہ اس کے مطابق وفد نے سترہ میچ کھیلے جن میں بارہ چیتے تعین میں ناکام دو میں برابر رہا۔وفد کے مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو ( جامعہ احمد یہ دسمبر ۱۹۳۲ء صفحه ب تاد) ا الفضل تیم جنوری ۱۹۳۳ء صفحہ ۱۳ کالم ۳۔١٧٢- الفضل ۲۴ / اپریل ۱۹۳۲ء صفحہ اکالم - ١٧٣- الفضل ۱۹/ جون ۱۹۱۳ ء جلد نمبر صفحہ ۱۳ ان کے تفصیلی حالات لاہور تاریخ احمدیت مولفہ مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل مربی سلسلہ صفحہ ۱۴۸ تا صفحہ ۱۵۸ میں درج ہیں۔۱۷۴ الفضل ۹/ اگست ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۔حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کے شاگر دیتھے اور آپ ہی کے سایہ عاطفت میں پرورش پائی اور آپ ہی کے طفیل داخل احمدیت ہوئے حضرت شہید مرحوم کے سانحہ شہادت کے بعد احمدی ہونے کی وجہ سے آپ کو بھی بڑی تکالیف جھیلنا پڑ ہیں۔مدتوں گوشہ نشین رہے مگر تبلیغ جاری رکھی کئی بار گرفتار ہوئے اور قید خانہ میں مبتلائے آلام رہے ایک بار کابل کے اکٹر احمدی پکڑے گئے اور انہیں دردناک طریقے سے مارنے پیٹنے کے بعد جیل میں ڈال دیا گیا۔کئی احمدی ان دکھوں کی تاب نہ لا کر جیل ہی میں شہید ہو گئے اور باقی جرمانہ کی بھاری رقوم ادا کر کے رہا ہوئے۔ان دنوں میں حضرت مولوی صاحب کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے لیکن اتفاقا آپ کہیں سفر پر تھے۔گھر آنے پر حالات کا علم ہوا تو آپ مصلوح انگریزی علاقہ میں آگئے۔اس کے بعد جب امان اللہ خاں کی حکومت نے احمدیوں کی آزادی کا فرمان جاری کیا تو آپ واپس وطن تشریف لے گئے۔مگر جب علماء نے دوبارہ مخالفت کی آگ بھڑکا کر بعض احمدیوں کو قید اور بعض کو شہید کرا دیا تو آپ اہل و عیال کے بغیر قادیان میں ہجرت کر کے تشریف لے آئے تخمینا پچپن سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں سپرد خاک کئے