تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 301 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 301

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۲۸۷ کے اعتراضات کا جواب دینے سے قاصر رہے۔اس سال جن خوش نصیبوں کو نظام خلافت یا سلسلہ احمدیہ سے وابستہ بعض ممتاز نو مبایعین ہونے کی توفیق ملی ان میں ڈاکٹر سرمحمد اقبال صاحب کے برادر اکبر شیخ عطاء محمد صاحب اور بھتیجا شیخ اعجاز احمد صاحب بہت ممتاز ہیں۔محترم شیخ عطا محمد صاحب نے اپنی بیعت کا حسب ذیل الفاظ میں خط لکھا۔" سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز - جناب والا کمترین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ کا بیعت شدہ ہے۔خدا کے فضل اور حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کی برکت سے بیعت پر ثابت قدم ہے بلکہ بعض نشانات نے میرے ایمان کو زیادہ محکم کر دیا ہے۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے بتلایا کہ خلافت کی بیعت بھی ضروری ہے بوجہ پیرانہ سالی و نقاہت حاضری سے مجبور ہو کر یہ عریضہ خدمت اقدس میں ارسال ہے۔براہ نوازش قدیمانہ مجھے اپنی بیعت کے سلسلہ میں لے لیویں میں صدق دل سے آپ کی بیعت خلافت کرتا ہوں۔نیازمند شیخ عطا محمد - ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے اپنے برادر معظم شیخ عطا محمد صاحب ہی کی نسبت مندرجہ ذیل اشعار کے تھے۔۔- وہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو ہوائے عشق میں پالا ، کیا جواں مجھ کو ریاض دہر میں مانند گل رہے خنداں کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے اسی سال مرزا ضیاء اللہ بیگ صاحب داماد مرزا سلطان محمد بیگ صاحب رسالدار ) مع اہل و عیال داخل احمدیت ہوئے اس طرح محترمہ عزت بیگم صاحبہ جو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے چھوٹے بھائی مراز فضل احمد صاحب کی اہلیہ سا تھیں خدا کے فضل سے احمدی ہو گئیں۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے خاندان میں صرف یہی ایک خاتون باقی تھیں جن کو آخر قبول حق کی توفیق مل گئی۔ے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہلیہ اولی سے چھوٹے صاحبزادے مرزا افضل احمد مرحوم کی دو بیویاں تھیں۔ایک عزت بیگم صاحبہ جن کا تعلق خاندان سے ہی تھا اور ایک بیگم بی بی صاحبہ۔دونوں ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہوگئی تھیں۔محترمہ بیگم بی بی صاحب مرحومہ بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔