تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 299 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 299

احمد بہت جلد ۲۸۵ الجماعت کمیانہ سے مناظرہ ہوا۔احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد عبد اللہ صاحب اعجاز اور ملک عبد الرحمن صاحب خادم گجراتی نے بحث کی اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی حافظ احمد دین صاحب گکھڑوی نے۔تعلیم یافتہ غیر احمدیوں نے تسلیم کیا کہ ان کے مناظر نے کوئی معقول جواب نہیں دیا۔خصوصاً خادم صاحب کی تقریر اس قدر موثر اور لاجواب تھی کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔آخری تقریر خادم صاحب کی تھی مگر غیر احمدی اصحاب میدان مناظرہ چھوڑ کر چلے گئے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔مناظرہ گوجره: ۲۲- ۲۳/ ستمبر ۱۹۳۴ء عیسائیوں کا گوجرہ ضلع لائل پور میں جلسہ تھا۔اس موقعہ پر انہوں نے جماعت احمدیہ کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔جو منظور کر لیا گیا۔قادیان سے مولوی محمد سلیم صاحب اور لائل پور سے مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل تشریف لے آئے۔دو مضمون تجویز ہوئے۔" مسیحیت حضرت مرزا صاحب " اور "کفارہ " - ۲۵/ ستمبر کو دونوں مضمونوں پر مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے پادری عبد الحق صاحب سے مناظرہ کیا۔جس میں دوست دشمن نے مولوی صاحب کی نصیح البیانی اور زور استدلال اور پادری صاحب کے عجز اور بے بسی کا اقرار کیا۔پادری عبد الحق صاحب نے اپنی باری میں احمدیوں کو "عصمت انبیاء" پر بھی مناظرہ کا چیلنج دیا جو اسی وقت منظور کر لیا گیا تھا اور ساتھ ہی ان کو الوہیت مسیح پر مناظرہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ابھی پادری صاحب سے اس بارے میں گفتگو جاری تھی کہ مولوی محمد شاہ صاحب سیالکوٹی (جو غیر احمدیوں کی طرف سے عیسائیوں سے بحث کے لئے بلوائے گئے تھے اور جن کی نسبت بعد کو معلوم ہوا کہ انہوں نے عیسائیوں سے ساز باز کر رکھی ہے درمیان میں کھڑے ہو گئے اور ختم نبوت پر مناظرہ کا چیلنج دے دیا جو مولوی محمد سلیم صاحب نے فورا منظور کر لیا۔یہ سنتے ہی مولوی محمد شاہ صاحب عیسائیوں کی سٹیج پر جا بیٹھے۔مولوی محمد شاہ صاحب کی اس حرکت نازیبا کو ذمہ دار مسلمانوں نے نہایت ناپسند کیا نیز سب انسپکٹر صاحب پولیس نے بھی انہیں اس وقت مناظرہ سے روک دیا اور کہا کہ یہ مناظرہ تب ہو سکتا ہے جب باقاعدہ آپس میں مناظرہ کی شرائط طے کر لو۔دوسری طرف عیسائیوں سے مناظرہ جاری رکھنے کی انہوں نے اجازت دے دی۔مگر پادری صاحب نے مناظرہ کا چیلنج دے کر انکار کر دیا۔لیکن عیسائیوں کی چالاکی و ہوشیاری ملاحظہ ہو۔دوسرے دن جب مولوی محمد سلیم صاحب اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق خوشاب روانہ ہو گئے تو انہوں نے منادی کرا دی کہ مولوی محمد سلیم صاحب بھاگ گئے ہیں جماعت احمد یہ گوجرہ نے منادی سنتے ہی مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل کو بلوالیا اور ۸ بجے شام عیسائیوں کے بالمقابل سٹیج لگادی۔قاضی محمد نذیر صاحب نے پادری عبد الحق صاحب کو "عصمت انبیاء" اور