تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 298 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 298

تاریخ احمدیت جلد 4 ۲۸۴ تھی۔مگر ملک صاحب نے ایسی زبردست تقریر کی کہ کفارہ کے نظریہ کا بطلان روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا۔دوسرے اجلاس میں صداقت مسیح موعود " پر بحث ہوئی عیسائی مناظر صاحب نے غیر احمدی مناظرین کی خوشہ چینی کر کے وہی فرسودہ اعتراضات دہرا دیے جو عام طور پر مناظروں میں کئے جاتے تھے۔ان اعتراضات کا رد ملک صاحب مرحوم نے ایسی قابلیت سے کیا کہ عیسائی مناظر صاحب گالیوں اور بد زبانیوں پر اتر آئے۔لیکن ہر بات کا دندان شکن جواب پا کر جلد ہی اپنی روش بدلنے پر مجبور ہو گئے۔مناظرہ کے تیسرے اجلاس میں بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے ملک عبد الرحمن صاحب خادم ہی نے بحث کی۔اس اجلاس میں یسوع مسیح کی شخصیت از روئے بائیبل " زیر بحث تھی۔خادم صاحب نے انجیلی یسوع کا نقشہ اس خوبی سے پیش کیا کہ عیسائی مناظر صاحب کو دم مارنے کی مجال نہ رہی۔آپ نے انجامی چیلنج دیا کہ بائیبل کے یسوع کی والدہ کا یسوع پر ایمان لانا ثابت کر دو۔مگر وہ آخر وقت تک اس مطالبہ سے عہدہ برآنہ ہو سکے۔چوتھے اور آخری اجلاس میں ”تحریف بائیبل " پر بحث ہوئی۔احمدی مناظر مولوی علی محمد صاحب اجمیری تھے اور عیسائی مناظر مسٹر ہو ز - مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے بائبل کے محرف و مبدل ہونے کی ایسی ایسی مثالیں دیں کہ حاضرین دنگ رہ گئے۔مسٹر ہو نہ آخری تقریر میں کسی مطالبہ کا جواب دینے کے بجائے " ہائے ہائے قادیان" کے الفاظ منہ سے نکالنے لگے۔بلکہ تقریر کے خاتمہ پر یہاں تک کہہ دیا کہ میز پر جتنی کتابیں پڑی ہیں سب جلادو اور رجب ادھر سے کہا گیا کہ ان میں تو انا جیل بھی ہیں۔تو فرمانے لگے ان کو بھی جلا دو۔اگر چہ باہمی طور پر چھ متنازعہ مسائل پر بحث قرار پائی تھی۔مگر عیسائیوں نے آخری دو مسئلوں پر مناظرہ کرنے سے فرار اختیار کر لیا۔اس مناظرہ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرت علامہ میر محمد اسحق صاحب ناظر ضیافت اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ بھی شروع سے آخر تک اس میں تشریف فرما ر ہے اور احمدی مناظرین کی راہ نمائی کے فرائض انجام دیتے رہے۔مناظرہ چوہد ریوالہ چک نمبر ۱۰۸ ضلع لائلپور: اس گاؤں میں تین مباحثات ہوئے۔پہلا مباحثہ چوہدری محمد شریف صاحب فاضل جامعہ اور مولوی محمد حسین صاحب کولو تارڑوی کے درمیان دوسرا مولانا شیخ عبد القادر صاحب اور مولوی محمد مسلم صاحب دیوبندی کے درمیان اور تیسرا مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور لال حسین صاحب اختر کے درمیان ہوا۔تینوں مناظروں کا غیر احمدیوں پر بہت اچھا اثر پڑا۔۶۶۹ 17- مناظره میانه ضلع گجرات ۲۸-۲۹/ اگست ۱۹۳۴ء کو جماعت احمد یہ فتح پور کا اہلسنت و