تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 287
تاریخ احمدیت جلد ۷ میں بخل سے کام لیا ہو۔لیکن میں ایسے نا شکر اپن کا مظاہرہ نہیں کر سکتا اور چاہتا ہوں کہ آپ کا اور جماعت احمدیہ کا قدردانی کے جذبات کے ساتھ دلی خلوص سے بھر پور شکریہ کا اظہار کروں کہ آپ نے عیسائیت کے رد کے لئے بائیبل کا گہرا اور تحقیقی مطالعہ کرکے زبردست مواد عیسائیت کے ابطال کے لئے تیار کر دیا ہے بلکہ احمدی حضرات اپنی ان تھک کوششوں سے اس مواد میں روز بروز اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ایسٹ افریقن احمد یہ مسلم مشن کا اخبار اس حقیقت کے ثبوت میں ایک روشن اور تابندہ نشان ہے ہم خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ اخبار عیسائیت کے لئے ایک تکلیف دہ اور خاردار کا نتا ہے۔مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ میں اشاعت اسلام کا زبر دست کام خالصتہ جماعت احمدیہ کی ان تھک کوششوں اور مستقل جدوجہد کے نتیجہ میں انجام پارہا ہے۔کوئی سنی عالم اس عزت کا مستحق نظر نہیں آتا۔- سکول آف اور نٹیل سٹڈیز لنڈن کے پروفیسر لینڈن ہیرس(LYNDON HARRIS) نے (جو عرصہ تک عیسائی مشنری کے طور پر (تانگانیکا) مشرقی افریقہ میں کام کرتے رہے) اپنی کتاب۔9 "ISLAM IN EAST AFRICA میں لکھتے ہیں۔موجودہ صدی کے آغاز میں عیسائی مصنفین اس بات پر زور دے رہے تھے کہ سیاسی طاقت کے بغیر اسلام کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور یہی وجہ ہے کہ اسلام اب افریقہ میں زندہ نہیں رہ سکتا لیکن آج کوئی شخص بھی سنجیدگی کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اسلام کا چیلنج اب بھی موجود ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سیاسی زندگی کے نت نئے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے یہ چیلنج اور بھی قوت حاصل کر چکا ہے"۔اپنے تمام ہم عصروں میں احمد ہی اپنے مذہب اور معتقدات کے دفاع کی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اسلامی دنیا میں بالعموم فعال قسم کے مبلغ موجود نہیں ہیں۔یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ بر صغیر پاک و ہند کے تمام اسلامی فرقوں میں سے صرف یہی ایک فرقہ ہے جو افریقن میں اپنے پاؤں جمانے اور اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب رہا ہے "۔انگلستان کی نامور مضمون نگار منزالز بتھ ہکسلے نے دورہ افریقہ کے بعد " سنڈے ٹائمز " (لنڈن) میں لکھا۔" جھیل وکٹوریہ کے علاقہ میں جہاں کے لوگ کینیا کی سیاسیات میں بہت پیش پیش ہیں جماعت احمدیہ کے مبلغین کی مساعی بار آور ثابت ہو رہی ہیں اور وہاں لوگ اس جماعت میں داخل ہو