تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 273
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ملوث - EO ۲۵۹ اسی طرح مسٹر جولیس نیریرے (صدر جمہوریہ ٹانگانیکا) مسٹر رشیدی کو اوا ( نائب صدر جمہوریہ ٹانگا نیکا) کا بینہ کے ارکان اور دیگر سیاسی اور قومی لیڈروں نے اسے بڑے شوق سے پڑھا اور قدر و منزلت ۵۹۶ کی نگاہ سے دیکھا۔مسٹرلنڈن ہیرس ایم۔اے پی۔ایچ۔ڈی لکھتے ہیں۔۱۹۵۳ء میں قرآن کریم کا ایک نیا ترجمہ طبع ہو کر منظر عام پر آیا ہے۔یہ ترجمہ جماعت احمدیہ کے ایک سرکردہ رکن شیخ مبارک احمد صاحب نے نیروبی سے شائع کیا ہے اس سواحیلی ترجمہ میں قرآنی آیات کی احمد یہ نکتہ نگاہ سے تفسیر بھی درج کی گئی ہے اور ساتھ ہی اس میں وہ تفسیر بھی شامل کی گئی ہے جو صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے قبل ازیں شائع ہو چکی ہے۔تاہم بائیبل کے حالیہ سواحیلی ترجموں مثلاً ” یونین درشن آف دی بائیبل “ اور مشرقی افریقہ کے اخبارات اور آرچ بشپ آف یا رک ایسے نامور عیسائی لیڈروں کے تبصروں کے اقتباسات اور حوالے وغیرہ درج کر کے اسے زیادہ سے زیادہ مکمل کر دیا گیا ہے۔یہ کتاب عالمانہ شان اور جدت کی پوری آئینہ دار ہے۔۔۔اگر چہ دوسرے متعصب قسم کے مسلمان جماعت احمدیہ کو بدعتی سمجھتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ لوگ تمام ہم مذہب فرقوں کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا زیادہ بہتر طریق پر دفاع کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔آج اسلامی دنیا میں ان سے زیادہ فعال تبلیغی جماعت موجود نہیں۔یہ امر خاص طور پر نمایاں حیثیت کا حامل ہے کہ تمام مسلمان فرقوں میں سے صرف یہی ایک ایسا فرقہ ہے جو افریقہ کے قبائلی مسلمانوں کے درمیان پاؤں جمانے اور اپنے آپ کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے "۔کیمرج یونیورسٹی نے INTRODUCTION TO THE HISTORY OF EAST AFRICA کتاب میں مشرقی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے تاریخی حالات لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا۔اسلام کا مشرقی افریقہ میں یہ پہلا تبلیغی مرکز جماعت احمدیہ نے ۱۹۳۵ء میں ٹبورا (ٹانگا نیکا) میں قائم کیا اور اب یہ فرقہ ہر سہ علاقوں میں تبلیغی کام کر رہا ہے۔اس فرقہ کا سب سے پہلا اور اہم کام جو اس کے مبلغ شیخ مبارک احمد صاحب نے سرانجام دیا ہے وہ سواحیلی ترجمتہ القرآن مع تفسیری نوٹوں کے ہے اور دو سمرا اسلامی لٹریچر بھی شائع کیا جا رہا ہے"۔۱۹۵۳ء میں مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل نے مسجد کسموں کی کسموں میں مسجد کی تعمیر بنیاد رکھی۔یہ مسجد اپریل ۱۹۵۴ء کو تکمیل تک پہنچی بعد میں یہاں مشن ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا جو ستمبر ۱۹۵۴ء میں مکمل ہوا۔١٥٩٨