تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 272
تاریخ احمد بیت - جلد 4 ۲۵۸ ۵۹۰ عیسائیوں کو دست بدست لینے میں جو کمال جرات دکھائی ہے وہ انہیں کا کام ہے "۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تحریک تراجم قرآن کریم کے ماتحت سواحیلی ترجمه قرآن مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے نومبر ۱۹۳۶ء میں قرآن مجید کے سواحیل ترجمہ کا مقدس کام شروع کیا۔محترم شیخ صاحب ترجمہ کر چکے تو مسودہ پر انٹر ٹیرٹیوریل لنگویج کمیٹی فار سواحیلی" نے (جس میں کینیا اور زنجار کے سواحیلی زبان کے ماہر شامل تھے) ناقدانہ نظر ڈالی اور جائزہ کے بعد رائے دی کہ بحیثیت مجموعی یہ ترجمہ اچھا ہے۔تاہم ماہرین زبان کے مشورہ سے بعض اصول زبان دانی و ترجمہ وضع کئے گئے اور ان کے مطابق محترم شیخ صاحب نے ترجمہ پر نظر ثانی کی۔اس اہم کام میں شیخ امری عبیدی صاحب I اور مولوی محمد منور صاحب نے مکرم شیخ صاحب کے ساتھ مل کر بہت ہی قابل قدر کام کیا۔جب ہر طرح سے ترجمہ کی سلاست و صحت کا یقین ہو گیا اور مختصر تفسیری نوٹ بھی مکمل ہو گئے تو اسے حوالہ طباعت کیا گیا اور آخر سترہ سال کی محنت شاقہ اور دو لاکھ شلنگ کے صرف کثیر سے یہ ترجمہ مارچ ۱۹۵۳ء میں دس ہزار کی تعداد میں منظر عام پر آگیا۔دیباچہ کے لئے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اردو میں ایک خاص مضمون ارسال فرمایا جو سواحیلی زبان میں ترجمہ کر کے شامل کیا گیا اور اس کی سب سے پہلی کا پی بذریعہ ہوائی ڈاک حضور کی خدمت اقدس میں بھیج دی۔حضور انور نے بذریعہ تار قرآن کریم کے ترجمہ سواحیل کی اشاعت اور تقسیم کی اجازت مرحمت فرمائی۔سواحیلی ترجمہ قرآن کی اشاعت سے مشرقی افریقہ مشن کی تاریخ کا ایک نیا اور سنہری دور ۵۹۴ شروع ہوتا ہے جو اشاعت اسلام میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس ترجمہ سے مشرقی افریقہ میں تبلیغ و اشاعت اسلام کا کام پہلے کی نسبت بہت آسان ہو گیا اور قرآن مجید کی روشنی سے اس تاریک بر اعظم کے مقامی باشندے بھی منور ہونے لگے۔چنانچہ ایک افریقن چیف نے لکھا۔ہم گہرے اندھیرے میں تھے اور روحانی طور پر مردہ - قرآن کریم کے سواحیلی ترجمہ کی اشاعت سے اسلام کے نور سے ہمیں منور کیا گیا ہے اور افریقن اقوام کو ابھارنے کی عمدہ سعی کی گئی ہے"۔مشرقی افریقہ میں آزادی کے علمبردار مشہور لیڈر مسٹر جو مو کنیا ٹا ( حکومت کینیا کے موجودہ صدر) اور ان کے ساتھیوں کو جبکہ وہ ماؤ ماؤ تحریک کو منظم کرنے کے الزام میں گرفتار تھے سواحیلی ترجمہ بھیجوایا گیا۔مسٹر جو مو کنیا ٹا نے تین دفعہ یہ ترجمہ پڑھا اور کہا ابھی اس کو پھر پڑھنے کا شوق ہے نیز ایک مجلس میں برملا کہا کہ اسلام توحید و مساوات کا علمبردار ہے اور عیسائیت بت پرستی اور شرک کی تعلیم سے