تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 271
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۲۵۷ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور احمدیت کے قدم مضبوط سے مضبوط تر ہو گئے ہیں۔جماعت ہائے مشرقی افریقہ کی سالانہ کانفرنس جب شیورا کی مسجد کا م جو ہم میں الاشباح ۱۹۴۴ء ہوا اور مشرقی افریقہ کے مختلف علاقوں اور سے احمد ہی شامل ہوئے تو مشرقی افریقہ کی سالانہ کانفرنس بھی منعقد کی گئی اس کا نفرنس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ہر سال مشرقی افریقہ کے احمدیوں کی کانفرنس ہوا کرے اس کے بعد دوسری کانفرنس کا انعقاد دسمبر ۱۹۴۵ء میں نیروبی کے مقام پر ہوا۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ کے علاوہ اس میں مولوی نور الحق صاحب انور شیخ امری عبیدی صاحب مرحوم اور شیخ صالح صاحب بطور مبلغین شامل ہوئے۔چند سال بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم پر مشن کے بجٹ ، اخراجات اور آمد کے علاوہ گزشتہ جدوجہد کے جائزہ اور نئے سال کا پروگرام مرتب کرنے کے لئے مالی اور تبلیغی معاملات کی دو کا سب کمیٹیاں تشکیل کی گئیں جن میں ہر سال چھ مبلغین اور چھ منتخب نمائندے مشرقی افریقہ کے شامل کئے جاتے تھے۔ان کمیٹیوں کے صدر رئیس التبلیغ شیخ مبارک احمد صاحب تھے۔اس نئے طریق پر کانفرنس پہلی بار کمپالہ میں پھر نیروبی میں ہوئی اور پھر با قاعدہ ہر سال منعقد ہوتی رہی۔آخری کانفرنس دسمبر ۱۹۶۰ء میں دار السلام کی مسجد میں منعقد ہوئی۔ٹبورا کے پادریوں کا مقابلہ جولائی اگست ۱۹۵۰ء کا واقعہ ہے کہ ٹبورا کے ایک رومن کیتھولک پادری نے اسلام اور آنحضرت ﷺ کے خلاف Te AAA اپنے رسالہ "KIONGOZI میں بہت کچھ لکھا اور مولوی جلال الدین صاحب قمر نے راتوں رات مکرم امری عبیدی صاحب کی معیت میں ایک مختصر سا اشتہار احمد یہ پریس بو را س سے شائع کیا جس میں پادریوں کے الزامات کا مختصر جواب دے کر ان کو پلک مناظرہ کی دعوت دی۔اس اشتہار سے عیسائیوں میں کھلبلی مچ گئی اور مسلمانوں کی طرف سے خوشی اور مسرت کے خطوط آنے شروع ہو گئے چنانچہ زنجبار کے مشہور و معروف عالم شیخ عبد اللہ صالح نے سواحیل میں مکرم مولوی جلال الدین صاحب قمر کے نام ایک خط لکھا کہ آپ کا مضمون " حق ہی غالب ہو تا ہے " پر مبارکباد دیتا۔ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور ان تمام کو جو حق کی حمایت میں کمربستہ ہیں۔اگر چہ میں احمدیوں کی بعض باتوں سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن خدا تعالیٰ اور اس کے مقدسوں کے سامنے اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کے اندر حفاظت اسلام کے لئے جو غیرت ہے وہ مجھے بے حد محبوب ہے احمدی قطعاً اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کے خلاف کچھ لکھایا کہا جائے اور جب تک اس کا شافی جواب دے کر دشمن اسلام کو خاموش نہ کر دیں دم نہیں لیتے۔خصوصاً افریقہ کے