تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 268 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 268

۲۵۴ ۵۴۸ تاریخ احمدیت - جلد ۲ مسجد کی اجازت نہیں دے سکتی۔اب مسجد کی زمین کے لئے کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔بالآخر حکومت نے ۱۹۴۲ء کے آغاز میں دس ہزار مربع فٹ کا ایک نہایت عمدہ اور با موقعہ قطعہ ننانوے سال کی اقساط اور صرف ایک شلنگ سالانہ کرایہ پر دے دیا۔یہ جگہ پہلے تجویز شدہ مقام سے بدرجہا بہتر تھی اور یہ خدائی تصرف تھا کہ اس نے خود مخالفین کے ہاتھوں احمدیہ مسجد کے لئے اعلی جگہ دلادی۔یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا جبکہ شمالی افریقہ لڑائی کا میدان بنا ہوا تھا اور حکومت نے ہر قسم کے عمارتی سامان پر کنٹرول کر رکھا تھا۔مگر اس نے تعمیر مسجد کے لئے فراخدلی سے سامان کی اجازت دے دی اور مقامی ٹاؤن شپ اتھارٹی نے بھی اور شیخ مبارک احمد صاحب نے جماعت کے تعاون سے مسجد کے سامان کی فراہمی کا اکثرو بیشتر انتظام کر لیا۔اب معماروں اور مزدوروں کا سوال تھا۔خدا تعالیٰ نے اس کے لئے بھی ایک عجیب سامان پیدا کر دیا۔جس کی تفصیل مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کے الفاظ میں یہ ہے کہ جب ہم حکومت کی طرف سے دی گئی زمین پر مسجد تعمیر کرنے لگے تو افریقن ترکھانوں اور معماروں نے (مخالفت کے باعث) کام کرنے سے انکار کر دیا۔جس کی وجہ سے کام رک گیا لیکن جلد ہی جنگ شروع ہو گئی اور تین ہزار اٹالین قیدی مشرقی افریقہ آگئے۔ان قیدیوں میں لکٹری اور عمارت بنانے والے بہترین کاریگر تھے۔مشرقی افریقہ میں معمار اور ترکھان میں شلنگ روزانہ لیتے ہیں لیکن ہمیں یہ قیدی دو شلنگ روزانہ پر دستیاب ہونے لگے۔ان قیدیوں کے کیمپ کا کمانڈر ایک رومن کیتھولک کرنل تھا۔جب عیسائیوں نے دیکھا کہ قیدی ہماری مسجد تعمیر کر رہے ہیں تو اس کرنل کو لکھا اور اس نے قیدی بھیجنے بند کر دیئے اور اس طرح مسجد کی تعمیر کا کام درمیان میں ہی رک گیا۔میں دار السلام گیا اور روہاں ایک یورپین افسر سے ملا میرے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔اس نے ڈائریکٹر آف مین پاور کو فون کیا کہ یہ بہت بری حرکت ہے قیدی عیسائیوں کے گرجے بناتے ہیں لیکن مسجد تعمیر کرنے سے وہ روکے جاتے ہیں۔دوسرے دن ڈائریکٹر آف مین پادر نے مجھے بلایا اور پھر قیدیوں کے انچارج کو تار دیا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے قیدیوں کو ریلیز کیا جائے۔شیخ مبارک احمد صاحب فاضل نے مسجد کی بنیاد ۲۷ جون ۱۹۴۲ء کو رکھی اور خدا کے توکل پر کام شروع کرا دیا۔تعمیر کے دوران پتھر ختم ہو گئے رمضان کا مہینہ تھا اور سخت گرمی کا موسم۔مگر افریقن احمدی تین روز تک شہر کے قریب ایک پہاڑے پتھر کانتے اور جمع کرتے رہے۔اس موقعہ کے علاوہ بھی متعدد بار انہوں نے یہ خدمت رضا کار نہ طور پر انجام دی۔۱۵۴۹