تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 252
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ اس کامیابی پر فوج کے بعض مسلمان افسروں نے یہ الزام لگایا کہ ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ برطانیہ کے خلاف اشتعال پھیلا رہے ہیں مگر جب اس کی رپورٹ کپتان تک گئی تو یہ بات غلط نکلی۔حضرت ڈاکٹر صاحب کو مضافات ممباسہ کے علاوہ مشرقی افریقہ کی دوسری بندر گاہوں پر بھی جانا پڑا اور انہوں نے ہر جگہ سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کی۔حضرت ڈاکٹر صاحب تین سال کے بعد اپنے وطن تشریف لے آئے مگر حضرت منشی محمد افضل صاحب اور حضرت شیخ نور احمد صاحب برابر پانچ برس تک مخالفت کے باوجود اشاعت احمدیت 1 میں مصروف رہے ان بزرگوں کے ذریعہ سے جو ار ا ، حلقہ بگوش احمدیت ہوئے ان میں سب سے نمایاں اور ممتاز فرد حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب آف رنمل ضلع گجرات) تھے۔جنہوں نے قبول حق کے بعد اپنے اندر مثالی تبدیلی پیدا کی۔احمدی ہونے کے بعد ان کی بہت مخالفت ہوئی مگر ان کے نیک نمونہ نے نہ صرف اپنے حقیقی بھائی حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب اور حضرت پیر برکت علی صاحب کو سلسلہ احمدیہ سے منسلک کر دیا۔بلکہ سیٹھ فتح دین صاحب علمی۔ڈاکٹر سلطان علی صاحب اور ڈاکٹر عبد اللہ صاحب (احمدی) آف گجرات اور کئی اور اصحاب آپ کے اثر سے حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے اور پھر ان کے ذریعہ سے احمدیت کا نور پھیلنا شروع ہوا۔چنانچہ ڈاکٹر عبد اللہ صاحب (احمدی) کی تبلیغ سے میرو (MERU) میں جو نیروبی سے دو سو میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے قاسم منگیا نامی ایک میمن اپنے خاندان سمیت داخل سلسلہ ہوئے پھر رفتہ رفتہ مخلصین کی ایک جماعت پیدا ہو گئی جن میں سیٹھ عثمان یعقوب صاحب اور ان کے بڑے بھائی حاجی ایوب صاحب اور سیٹھ نور احمد صاحب ، حاجی ابراہیم صاحب اور حاجی ایوب صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔(1) حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب ممباسہ کے کھنڈ ینی (KILINDINI) ہسپتال میں کام کرتے ا تھے۔یہ ہسپتال ان دنوں مشرقی افریقہ میں اشاعت احمدیت کا ایک مرکز بن گیا تھا جہاں جماعت کے با قاعدہ ہفتہ وار اجلاس ہوتے۔قرآن مجید اور کتب حضرت مسیح موعود کا درس دیا جاتا اور مسئلہ حیات و وفات مسیح پر تقاریر کی جاتیں۔حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب ۱۹۰۱ ء کے شروع میں واپس ہندوستان تشریف لائے اور پھر سومالی لینڈ گئے۔جہاں آپ فوجی خدمات بجا لا رہے تھے کہ اٹھائیس برس کی عمر میں شہید کر دیئے گئے۔تاریخ شهادت ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ء) بابو محمد افضل صاحب نے کلنڈ نی بندرگاہ (مشرقی افریقہ) میں مقیم اولین صحابی القلم اپریل ، صفحہ ۱۹/ ۱۸۹۹ء