تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 236
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ پہلا باب (فصل سیزدهم) ۲۳۴ دار التبلیغ مشرقی افریقہ کا قیام حصول آزادی سے قبل (جو پچھلے چند سالوں میں ہوئی) مشرقی افریقہ کا اسلامی عہد اقتدار برطانوی مشرقی افریقہ چار علاقوں پر مشتمل تھا۔A کینیا کالونی ۲- یوگنڈ ا ۳- تانگانیکا - زنجبار یوں تو زمانہ قدیم سے عرب کا مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقوں سے تجارتی تعلق رہا ہے۔لیکن ظہور اسلام کے بعد پہلے سے زیادہ تعداد میں عربوں نے یہاں آنا شروع کیا۔اب ان کے پیش نظر تجارت کے ساتھ تبلیغ اسلام بھی تھی۔اس کے علاوہ خلیج فارس سے ملحق ملکوں کے مسلمان باشندوں نے بھی حسب سابق اپنی آمد جاری رکھی اور چھوٹے چھوٹے جزیروں میں مستقل طور پر اپنی تجارتی کو ٹھیاں اور آبادیاں قائم کرلیں اور وہ سمندر کے کنارے بعض قصبات میں آباد ہو گئے۔انہوں نے اصل باشندوں کی (جو سیام نام اور BANTU نسل سے تھے) عورتوں سے شادیاں کرنا شروع کر دیں۔ان سے جو بچے پیدا ہوئے انہیں سواحیلی کہا جانے لگا۔اس عرصہ میں اہل عرب و فارس نے جن کی اکثریت شافعی مسلک کی تھی۔پورے طور پر فروغ حاصل کر لیا اور افریقہ کے مشرقی ساحل سے لے کر جنوب تک ان کا تسلط قائم ہو گیا جو چار پانچ سو سال تک رہا اور آج بھی ان کے عہد اقتدار کے اثرات پرانے کھنڈروں عمارتوں اور اصل باشندوں کے لباس اور ان کی زبان سے ظاہر ہیں۔چار پانچ صدیوں کا زمانہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔اگر اس مدت دراز عیسائی مشنوں کی یورش میں اشاعت اسلام کی منظم جدوجہد کیجاتی تو پورا مشرقی افریقہ مسلمان ہوتا اور عیسائیوں کو یہاں قدم رکھنے کی جرات نہ ہوتی۔مگر اس زمانے کے مسلمانوں نے تبلیغی جہاد سے بے اعتنائی برتی اور مشرقی افریقہ کی وسیع اسلامی حکومت سمٹ کر زنجبار کی مختصری برائے نام ریاست میں محدود ہو گئی اور ہر جگہ عیسائی پادریوں نے اپنا وسیع جال پھیلا دیا۔چنانچہ ۱۸۴۰ء میں مسلم اکثریت کے علاقہ میں عیسائی مشن قائم ہوا۔جس نے افریقہ کے اصل i