تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ پارلیمینٹری کمیٹی کے اجلاسوں میں ان کی شمولیت سے مسلمانوں کو خاص فائدہ پہنچا۔آپ جداگانہ انتخاب کے خاص حامی ہیں۔مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ کے ہمیشہ ہم نوا ر ہے ہیں۔ان کی قابلیت اور سیاسی فهم و فراست مسلمہ ہے۔ان کا سیاسی مسطح وہی ہے جو مسلمانوں کے تمام ذمہ دار نمائندوں کا ہے۔حال ہی میں وزیر ہند سر سیموئیل ہورنے ان کی مدبرانہ حکمت عملی اور قابلیت کا بجاطور پر اعتراف کیا ہے علاوہ ازیں گزشتہ ایام میں چوہدری صاحب موصوف عارضی طور پر ایگزیکٹو کونسلری کے فرائض بوجه احسن سرانجام دے چکے ہیں۔ان حالات میں اگر گورنمنٹ کی نظر میں میاں سر فضل صاحب کے صحیح اور موزوں جانشین چودھری صاحب ہی ہو سکتے ہیں تو مولوی ظفر علی خاں کا بے ہودہ پروپیگنڈا کر کے مسلمانوں کی قوم کو گمراہ کرنا بد ترین اخلاقی جرم ہے۔مولوی ظفر علی خاں جو ہمیشہ جمہور کے نظریہ سے اختلاف رکھ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ بنانے کے عادی ہیں اگر ان کی اس دلیل پر که چوھدری صاحب موصوف قادیانی ہیں حکومت کسی عہدہ کی تقرری کے لئے عقیدہ کا معیار مقرر کر دے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ قابل اور موزوں اشخاص کا انتخاب نہ ہو سکے گا۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ میاں سر فضل حسین صاحب حفی عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں اور جب ان کی تقرری پر مسلمانوں کی غیر حنفی جماعتوں نے اعتراض نہ کیا تھا تو اب چوہدری صاحب کی تقرری پر مولوی ظفر علی خاں کا یہ اعتراض کرنا کہ وہ قادیانی ہیں کسی حالت میں بھی جائز اور مستحن نہیں ہو سکتا، سول اس کے کہ مولوی صاحب نے حسب عادت مسلمانوں میں جو آگے ہی افتراق اور تفریق کی بدولت اپنی طاقت کو زائل کر کے چہار اطراف سے تنزل داد بار میں گھر چکے ہیں، مزید افتراق و تفریق کا فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔مسلمانوں کی موجودہ تباہ حالی کا اگر کوئی باعث ہوا ہے تو وہ ان کی اپنی ہی فرقہ بندی اور تفریق و تقسیم ہے۔۔فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانہ میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں پس مسلمانوں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ مولوی صاحب کی فتنہ پردازی پر نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے اور نہیں تو کم از کم اپنے سیاسی حقوق و مفادہی کے استحکام کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جایا کریں۔تا اغیار کی گہری سازشوں کا بخوبی مقابلہ ہو سکے "۔74+ اخبار " عزیز بند " جھانسی کے ایڈیٹر خان صاحب محمد رفیق صاحب اخبار " عزیز ہند " کا اداریہ نے اپنے ۲۸/ ستمبر کے اخبار میں لکھا کہ۔پچھلے مہینہ ڈیڑھ مہینہ سے اخبارات میں اس بات پر بڑے زور شور کے ساتھ بحث ہو رہی ہے کہ سر فضل حسین کا جو کہ عنقریب ریٹائر ہو رہے ہیں جانشین کون ہے ؟ باخبر حلقوں میں اس امر کا یقین