تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 199 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 199

تاریخ احمدیت - جلد ۶ 149 دی ہو۔کیا مولوی صاحب کوئی ایسی مثال دے سکتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ فلاں موقعہ پر جب چودھری ظفر اللہ خان مسلمانوں کی ترجمانی کے لئے سرکاری یا غیر سرکاری طور پر منتخب کئے گئے تو انہوں نے صرف اپنے ہم عقیدہ والوں ہی کی ترجمانی کی ہو ؟ کیا مولوی صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ گزشتہ ایام میں جب چودھری صاحب عارضی طور پر ایگزیکٹو کو نسلر مقرر ہوئے تو انہوں نے کوئی ایسا کام کیا جس سے غیر قادیانیوں کو نقصان پہنچا ہو ؟ پس جب ان تمام باتوں کا مولوی صاحب کے پاس کوئی معقول جواب نہیں اور یقیناً نہیں ہے جو حقیقت میں مخالفت کا جواز ہو سکتی ہے تو پھر مسلمان مولوی صاحب کی مخالفت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے اور جو کسی حالت میں بھی قومی وملی نظریہ کے مطابق مناسب نہیں بلکہ ذاتیات کی بدترین تنگ نظری کا مظاہرہ ہے۔مزید بر آں ہر مسلمان جس نے مولوی صاحب کی زندگی کا عمیق نظروں سے مطالعہ کیا ہے وہ خوب سمجھتا ہے کہ اس شخص کی متلون مزاجی اور قدم قدم پر متضاد حکمت عملی نے مسلم قوم کو بحیثیت مجموعی سخت نقصان پہنچایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کی کسی اہم ذمہ دار سیاسی نمائندہ جماعت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔قوم کے تمام ذمہ دار نمائندے ان کی رائے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی کسی معاملہ میں نہ ان کی رائے طلب کی ہے اور نہ ہی ان کے نظریہ کو قومی و ملی مفاد کے لئے بہتر قرار دیا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ چودھری ظفر اللہ خاں ایک فرقہ احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس طرح دوسرے مسلمان کسی نہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مختلف اسلامی فرقوں کا ایک دوسرے سے شدید اختلاف ہے اور علماء آئے دن ایک دو سرے پر کفر کے فتوے لگاتے رہتے ہیں۔مولوی ظفر علی خاں کو معلوم ہو گا کہ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ اہلحدیثوں نے گورنمنٹ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ یا تو ہمیں علیحدہ نیابت دی جائے یا مخلوط انتخاب ہو کیونکہ وہ اپنا نمائندہ ایک غیر مسلم کو بنا سکتے ہیں لیکن حنفی مسلمان کو بدعتی اور مشرک سمجھتے ہیں۔اسی طرح سے شیعہ حضرات کا مطالبہ بھی ایک سے زائد مرتبہ اس قسم کا ہو چکا ہے لیکن آج تک اس فرقہ کی طرف سے جس کو مولوی ظفر علی خاں اپنی نظر میں مسلمان ہی نہیں سمجھتے کبھی ایسا مطالبہ نہیں ہوا بلکہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی معاملہ اسلامی مفاد عامہ کے متعلق دنیا کے سامنے آیا اس فرقہ کے مسلمانوں نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی ذات کو ہی لے لیجئے ۱۹۲۷ء میں چودھری صاحب موصوف ڈاکٹر شفاعت احمد خان صاحب کے ساتھ لندن گئے اور انہوں نے خاص طور پر وزیر ہند اور دیگر برطانوی مدبرین پر ہندوستان میں مسلمانوں کی حق تلفی واضح کی۔سائمن کمیشن بھول میز کانفرنس اور جائنٹ