تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 198
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۹۸ اخبار " قومیت لاہور نے "آنریل میاں سر فضل اخبار " قومیت " اردو کا آرٹیکل حسین صاحب کی جانشینی کا مسئلہ - مولوی ظفر علی خاں صاحب کا لغو اور بے ہودہ پروپیگنڈا کے عنوانوں سے ۱۰/ ستمبر ۱۹۳۴ء کی اشاعت میں مندرجہ ذیل نوٹ لکھا۔وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے میاں سر فضل حسین صاحب عنقریب ریٹائر ہو رہے ہیں اور سرکای حلقوں میں یہ خبر بڑے وثوق سے بیان کی جاتی ہے کہ ان کی جگہ حکومت چودھری ظفر اللہ خاں بیر سٹرایٹ لاء کا تقرر عمل میں لانے والی ہے جو موجودہ حالت میں ان کے نزدیک ہر طرح سے قابل و موزون ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب موصوف کی رائے بھی چودھری صاحب ہی کے حق میں ہے مسلمانان ہند کے سمجھدار طبقہ نے بحیثیت مجموعی حکومت کے اس ارادہ کو بنظر استحسان دیکھا ہے لیکن مولوی ظفر علی خاں ہیں کہ وہ اپنی دیرینہ ذاتی عداوت کی وجہ سے جو فرقہ احمدیہ سے ہے اس معاملہ کو بلا وجہ مذہبی عقائد کا رنگ دے کر نہایت لغو اور شرمناک پروپیگنڈا سے "زمیندار" کے کالم کے کالم سیاہ کر رہے ہیں۔ایک طرف مولوی صاحب اپنی مخالفت کی وجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے ان کا تقرر مولوی صاحب کی سمجھ کے مطابق صحیح نہیں لیکن دوسری طرف مسلمانوں کے ذمہ دار لیڈروں اور ان کی سب سے بڑی جماعتوں آل انڈیا مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ نے اس تقریر کو موزوں قرار دیتے ہوئے چودھری صاحب پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے مولوی ظفر علی خان کا اپنی وجہ مخالفت میں یہ دلیل پیش کرنا کہ چودھری صاحب قادیانی ہیں اور اس لئے وہ وائسرائے کے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر نہیں ہو سکتے۔نہایت بے معنی اور لغو ہے اور اس سے مولوی صاحب کی ذاتی پر خاش کے سوا اور کچھ بھی مترشح نہیں ہو تا۔تعجب ہے کہ مولوی صاحب نے دلیل مذکور پیش کرتے وقت اتنا بھی نہیں سوچا کہ ایگزیکٹو کونسلر کے فرائض منصبی میں آخر وہ کونسی شق ہے جس کے مطابق چودھری صاحب موصوف قادیانی عقائد کے پیروؤں کو فائدہ اور غیر قادیانیوں کو نقصان پہنچا سکیں گے ؟ کیا ایگزیکٹو کونسلر کو مسلمانوں کے امور شرعیہ میں کسی وقت مخل ہونے کا حق حاصل ہے جو مولوی صاحب کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ چودھری صاحب زمام ایگزیکٹو کو نسلری ہاتھ میں لیتے ہی سوائے قادیانی عقیدہ کے دیگر تمام عقیدوں کو سرزمین ہند سے مٹادیں گے۔کیا مولوی صاحب زمانہ ما سبق کی کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ جس عقیدہ اور مذہب کا شخص ایگزیکٹو کونسلری پر فائز ہوا اس نے اپنے ہم عقیدہ والوں کے سوا باقی تمام کے دائرہ حیات کو تنگ کر دیا تھا اور حکومت نے اس کے ایسے فعل پر اپنی منظوری ثبت کر