تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 194 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 194

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا اہم اس عظیم الشان منصب ومقام کے باوجود جواللہ فرمان مرکزی کارکنوں کی نسبت تعالی نے خلعت خلافت پہنا کر حضرت خلیفتہ المسیح کو عطا فرمایا تھا۔حضور کی فروتنی لمفساری اور کسر نفسی کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص سے ہمیشہ کھڑے ہو کر ملاقات فرماتے اور اپنے ساتھ جگہ دیتے اور محبت اور تپاک سے بٹھاتے تھے۔حضرت اقدس یہی روح سلسلہ کے مرکزی کارکنوں میں کام کرتی دیکھنا چاہتے تھے۔چنانچہ حضور نے اس مقصد کے پیش نظر نا ظمر صاحب اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اہم فرمان جاری فرمایا۔" آپ کو اور دیگر ناظروں اور عہدیداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جب کوئی شخص ملنے یا کام کے لئے آئے۔ہر کارکن کا فرض ہے کہ وہ کھڑا ہو کر اسے ملے۔خواہ کام والا چوہڑا ہی کیوں نہ ہو۔اس کی خلاف ورزی کرنے والا سزا کا مستوجب سمجھا جائے گا۔نیز سب ناظروں اور نائب نا ظروں کا فرض ہو گا کہ وہ جب بازاروں گلیوں سے گزریں تو حتی الوسع سلام میں تقدم کریں۔حضور کا ارشاد بیرونی احباب کی اطلاع کے لئے الفضل (۶/ ستمبر ۱۹۳۴ء) میں بھی شائع کر دیا گیا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا تقرر ۲۳/ جولائی ۱۹۳۴ء کو وزیر ہند کی طرف سے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی حیثیت سے مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی حیثیت سے لئے جانے کی پیش کش ہوئی۔مکرم چوہدری صاحب نے جوابا کہا کہ مجھے تو آپ کی پیش کش منظور ہے لیکن ممکن ہے ملک کے بعض لوگوں کی طرف سے مخالفت ہو۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں ہمیں تولا ئق اور قابل آدمی چاہئے چنانچہ آپ کی تقرری کے متعلق بعد میں اعلان ہو گیا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تقرری اور اخبار "زمیندار" چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ابھی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر مقرر نہیں ہوئے تھے کہ اخبار "زمیندار" نے وائسرائے ہند کے نام مندرجہ ذیل مکتوب مفتوح شائع کیا۔مکتوب مفتوح بنام نائب السلطنت کشور هند "۔۔۔۔۔۔۔جناب والا کی مجلس وزراء جس کے مشورہ پر نظم و نسق سلطنت کا دارو مدار ہے۔چھ ارکان سے مرکب ہے جن میں سے تین ہندوستانی ہیں اور تین انگریز۔ان تین ہندوستانیوں میں ایک مسلمان