تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 152 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 152

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۱۵۵۲ عقد سے مل کر ایسا انتظام کروا دیں کہ آئندہ اس قسم کے افسوسناک حالات اور واقعات کا اعادہ نہ ہو۔چنانچہ اس حکم پر حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر اور سیٹھ محمد اعظم صاحب ۱۰/ مارچ ۱۶۱۹۳۴ کو کالی کٹ پہنچ گئے ان حضرات کا مالا بار میں ورود مالابار کی جماعت کے لئے بڑی ڈھارس اور اطمینان کا موجب ہوا۔سارے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ان اصحاب نے سیکرٹری جماعت احمد یہ کالی کٹ کے ساتھ کلکٹر ضلع مالا بار سے (جو انگریز تھا) ملاقات کی اور اس سے فوت شدہ احمدی کی تدفین کے سلسلہ میں جو افسوسناک واقعات پیش آئے تھے۔اور جن وحشیانہ افعال کا ارتکاب غیر احمدیوں کی طرف سے کیا گیا تھا ان کا ذکر کیا۔اور ان واقعات کے پیش نظر کلکٹر سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے ایسا انتظام کیا جائے کہ آئندہ فوت ہونے والے احمدیوں کی تدفین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔کلکٹر نے ساری باتیں توجہ سے سنیں اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مالا باری مسلمانوں (موپلے) کے شدید تعصب (FANATISM) اور ان لوگوں کی معروف ہنگامہ آرائی کے پیش نظر حکومت اس معاملہ میں الجھ کر اپنے لئے ایک نیا درد سر مول لینا نہیں چاہتی اس پر حضرت مولانا نیر نے یہ تجویز پیش کی کہ احمدیوں کو قبرستان کے لئے علیحدہ زمین دی جائے تو وہ اس پر متفق نہ ہو سکا اور جواب دیا کہ حکومت مسلمانوں کے قبرستان کے لئے ایک وسیع زمین دے چکی ہے اب وہ فرقہ وارانہ اساس پر علیحدہ قبرستان کے لئے جگہ دینے پر آمادہ نہیں ہے۔بہر حال کافی گفتگو اس موضوع پر ہوئی اور کلکٹر کو حکومت کی اس ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا گیا جو شہریوں کی بنیادی ضروریات اور ان کے تحفظ کے تعلق سے ہے لیکن وہ باوجود اظہار ہمدردی کے کسی عملی اقدام کے لئے تیار نہ تھا۔ان حالات میں حضرت مولانا نیٹر نے جماعت کالی کٹ کے سیکرٹری سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے سن لیا ہے کہ آپ کے کلکٹر آپ کی کسی قسم کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ان حالات میں میں آپ کو ہدایت کرتا ہوں کہ جب کبھی کوئی احمدی فوت ہو۔تو آپ لوگ حکومت کے لئے لاء اینڈ آرڈر " کا مسئلہ کھڑا نہ کریں۔بلکہ بعد نماز جنازہ اس احمدی کی میت کو خاموشی کے ساتھ کسی ٹرک میں لے جاکر کلکٹر کی کوٹھی پر پہنچا ہیں۔کلکٹر جس طرح مناسب خیال کریں گے اس کی تدفین کا انتظام کر دیں گے۔حضرت مولانا کے اس ارشاد پر کلکٹر بڑا پریشان ہوا۔اور بے ساختہ کہا کہ ”نہیں نہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے“۔مولانا نے جواب میں فرمایا کہ ایسا ہی ہو گا۔اگر غیر احمد 15 اپنی تعداد کے بل بوتے پر ہمارے مردوں کو قبرستان میں دفن ہونے میں مزاحم ہیں اور حکومت اپنی سنہری اور رو پہلی مصلحتوں کی بنا پر ہمارے حق کو دلوانے اور مدد کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس صورت میں اس کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے۔مزید کچھ گفتگو کے بعد کلکٹر نے کہا کہ وہ اس سارے معاملہ کو مناسب فیصلہ کے لئے میونسپلٹی کو جس کے زیر انتظام قبرستان ہیں