تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 151 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 151

مچاتے ساتھ جارہے تھے۔اور وہ فتنہ انگیز اور شورش پسند موپلاؤں کے اتنے بڑے ہجوم کے مقابلہ میں کچھ نہ کر سکے پھر جنازہ بھاری تھا دوسرے اٹھانے کے لئے ایک بھاری لکڑی کے پلنگ کے سوا کوئی چیز میسر نہ تھی۔تیسرے اٹھانے والے چند کمزور نوجوان تھے جو بار بار اٹھاتے اور اتارتے ہوئے آدھی رات کے وقت ایک نہایت دور مقام پر ایسی حالت میں جنازہ لئے جارہے تھے جب کہ دس ہزار بشوریدہ سر آدمیوں کا ہجوم انہیں گھیرے ہوئے ہر طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کرتا، تمسخر اڑاتا، تالیاں بجاتا اور ان پر مٹی اور کنکر پھینکتا جارہا تھا۔آخر غریب و ناتوای احمدی افتان و خیزاں اس مقام پر پہنچے جو حکام نے قبر کے لئے تجویز کیا تھا انہوں نے خود قبر کھودی اور اپنے بھائی کو دفن کر کے پھر پہلے کی طرح مخالفین کی حیا سوز حرکات اور انسانیت سے دور افعال سے دو چار ہوتے ہوئے واپس لوٹے۔قبر کھودتے اور دفن کرتے وقت جو جو تکلیفیں احمدیوں کو برداشت کرنا پڑیں۔اور واپسی پر جو سختیاں جھیلیں ان کی تفصیل اور بھی درد ناک تھی۔اس واقعہ کے بعد کچھ عرصہ تک صورت حال یہ ہو گئی کہ عوام نے احمدیوں کے خلاف پورے شہر میں سخت اشتعال دلا کر ان کا عام سڑکوں پر چلنا مشکل کر دیا اور بعض احمدیوں کے بیوی بچے ان سے زیر دستی علیحدہ کر دیئے گئے۔مگر ان تمام مخدوش حالات میں کالی کٹ کے احمدی اپنی کسم پرسی' بے سرو سامانی اور بے بضاعتی کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل سے دین کی راہ میں ہر مشکل کے سامنے دیوانہ دار کھڑے رہے اور اس کی دی ہوئی توفیق سے کوہ استقلال ثابت ہوئے اور کوئی دکھ اور کوئی فتنہ ان کے پاؤں میں لغزش پیدا نہ کر سکا۔اس دردانگیز حادثہ کی تفصیلات جب الفضل کے ذریعہ سے جماعت کے سامنے آئیں تو احمدیوں کو بے حد دکھ ہوا اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خطہ کے مظلوم احمدیوں کی فریادرسی کرے۔آخر کالی کٹ کی میونسپل کمیٹی نے یہ ریزولیوشن پاس کر دیا کہ " کنم پر مبا" قبرستان کا ایک حصہ احمدیوں کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔یہ قرار داد ڈاکٹر چندو نے پیش کی مسٹرا چھو تھان نے اس کی تائید اور مسٹر سند را آئر نے تائید مزید کی۔مگر موپلوں کے مسلمان نمائندے مسٹر محمد عبد الرحمٰن داک آؤٹ کر کے ہال سے باہر چلے گئے۔تاہم یہ قرار داد کثرت رائے سے پاس ہو گئی۔120 یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جب ار انسانیت سوز افعال کی اطلاع حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں پہنچی تو آپ نے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر کو جو ان دنوں حیدر آباد (دکن) میں بطور مبلغ متعین تھے حکم فرمایا کہ وہ سیٹھ محمد اعظم صاحب کو ساتھ لے کر فورا کالی کٹ (مالا بار) پہنچ جائیں اور حضور کی طرف سے احمدی احباب سے اظہار ہمدردی کریں نیز یہ ارشاد ہوا کہ ارباب حل و