تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 145
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۱۴۵ پہلا باب (فصل دہم) خلافت ثانیہ کا اکیسواں سال ( جنوری ۱۹۳۴ ء تا دسمبر ۱۹۳۴ ء بمطابق رمضان المبارک ۱۳۵۲ھ تار مضان المبارک ۱۳۵۳ھ ) ۱۹۳۴ء کے اہم ترین واقعات میں سے احرار کا نفرنس قادیان کا انعقاد اور تحریک جدید جیسی عظیم الشان تحریک کا قیام ہے۔اول الذکر واقعہ مخالفین احمدیت کی منظم یورش پر منتج ہوا۔اور ثانی الذکر سے اسلام و احمدیت کی عالمگیر روحانی فتح و نصرت کی مضبوط بنیاد رکھی گئی۔ایک طرف ارضی دماغوں کے منصوبوں اور مادی تدبیروں کا اجتماع ہوا۔تو دوسری طرف خدائے ذوالجلال کی آسمانی سکیم کا نفاذ عمل میں آیا۔اس جنگ میں کون جیتا اور کسے عبرتناک شکست ہوئی اس کی تفصیلات ہم چونکہ دوسرے اور تیسرے باب میں بیان کر رہے ہیں۔اس لئے یہاں فقط ۱۹۳۴ء کے دیگر واقعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔تحریک سا لکین حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسی اشانی نے احمدیوں کی تربیت واصلاح کی غرض سے ۱۹۳۴ء کے ابتداء میں ایک نہایت اہم تحریک۔تحریک سالکین کے نام سے جاری فرمائی۔یہ تحریک تین سال کے لئے تھی اس کے مقاصد حضور کے الفاظ میں یہ تھے۔تربیت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تربیت ابدال یا تبدیلی سے ہوتی ہے اور ایک تربیت سلوک سے ہوتی ہے۔صوفیاء نے ان دونوں طریق کو تسلیم کیا ہے تبدیلی یہ ہے کہ انسان کے اندر کسی اہم حادثہ سے فورا ایک تبدیلی پیدا ہو جائے اور سلوک یہ ہے کہ مجاہدہ اور بحث سے آہستہ آہستہ تبدیلی پیدا ہو۔یورپ والے بھی ان کو تسلیم کرتے ہیں اور فوری تبدیلی کو کنورشن (CONVERSION) کہتے ہیں صوفیاء کنورشن کو ہی ابدال کہتے ہیں۔ابدال کی مثال یہ ہے کہ لکھا ہے ایک شخص ہمیشہ برے کاموں میں مبتلا رہتا تھا۔اسے بہت سمجھایا گیا۔مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ایک دفعہ کوئی شخص گلی میں سے گزرتا ہوا یہ آیت پڑھ رہا تھا الم يان للذين امنوا ان تخشع قلوبهم لذكر الله (المريد : ۱۷)