تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 129
تاریخ احمدیت جلد ۶ ١٣٩ کنٹرولر آف اکو نٹس) بر طرف کر دیئے گئے۔اس پر "الفضل " نے سخت احتجاج کیا اور لکھا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو مسلمان یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ ۹۵ فیصد مسلمان آبادی والے صوبہ کے اعلیٰ مسلمان افسر بھی بآسانی غیر مسلموں کی سازش کا شکار بنائے جاسکتے ہیں۔ہندوؤں کے حملہ کی مذمت: عید الاضحیہ کی تقریب پر حکومت کے وسیع انتظامات کے باوجود ہندوؤں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تھا اس ظالمانہ روش پر اظہار افسوس کرنے کی بجائے اخبار ملاپ (۲/ اپریل ۱۹۳۳ء) نے لکھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو عید کی قربانی ہی بند کر دینی چاہئے۔الفضل " نے اس ذہنیت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا۔کاش ہندوؤں میں رواداری کا مادہ ہو تا کہ وہ اقلیتوں کو حقوق نہیں بلکہ مراعات دے کر اپنا اعتماد جمالیتے - ریاست بہاولپور کے خلاف ہندو شورش: ہندوؤں نے تحریک آزادی کشمیر کے رد عمل کے طور پر ریاست بہاولپور کے خلاف شورش برپا کر رکھی تھی جس کی حقیقت اخبار الفضل نے واضح کی۔١٢٩٣ ۲۹۲- اتحاد المسلمین کی جدوجہد : صدر خلافت کمیٹی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ "مسلمانوں کی 1 | PAG نجات ان کی اپنی تنظیم میں مضمر ہے لہذا مسلمانوں کو اپنے تمام اختلافات دفن کر کے متحد طور پر کام کرنا چاہئے" الفضل نے اس مشورہ کا پر جوش خیر مقدم کیا۔21 مسلم لیگ میں بیجہتی کے لئے کوشش: قائد اعظم محمد علی جناح کے قیام لنڈن کے دوران مسلم لیگ کو بہت نقصان پہنچ رہا تھا اور یہ تنظیم اندرونی الجھنوں کا شکار بن کر عضو معطل بن رہی تھی۔اخبار "الفضل " نے اس نازک مرحلہ پر مسلمانان ہند کو توجہ دلائی کہ آل انڈیا مسلم لیگ ہی ہماری سب سے پہلی سیاسی انجمن ہے جس نے نہ صرف مسلمانوں کے سیاسی اور ملکی حقوق کی حفاظت کی بلکہ ان میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔لہذا آج جبکہ مخالف طاقتیں نہایت منظم طریق سے مسلمانوں کو کچلنے کے لئے بر سر پیکار ہیں یہ طریق نہ صرف ارکان مسلم لیگ کی شان کے شایاں نہیں بلکہ مسلمانوں کے لئے سخت نقصان رساں اور ان کے سیاسی حقوق کو تباہ کرنے والا ہے۔ریاست مانگرول کی تائیدہ : مانگروں کا ٹھیاواڑ میں ایک چھوٹی سی مسلمان ریاست تھی۔ہندو ذبیحہ گائے کا سوال اٹھا کر اس میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور آریہ اخبار نواب صاحب مانگروں کے خلاف پراپیگنڈا کر رہے تھے جس کے خلاف اخبار الفضل نے آواز بلند کی -1 سیو اسنگھی تنظیم کی مخالفت: اجمیر میں ہندوؤں کا ایک بہت بڑا اجتماع ہوا۔جس میں