تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 128 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 128

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۲۸ بحکم حکیم علی احمد صاحب نیرو اسطی اس خط کا حضور ﷺ نے اپنے قلم سے مندرجہ ذیل جواب دیا۔" آپ کا خط ملا۔حسب توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب ہی کاموں کی طرف توجہ کا ارادہ رکھتا ہوں اللہ تعالٰی ارادوں کا پورا کرنے والا ہے۔سب کام روپیہ چاہتے ہیں اور روپیہ ان ابتدائی ضرورتوں کو جن کے لئے سلسلہ کا قیام ہے یہ مشکل پورا ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو طب کا خاص خیال تھا مجھے جو علم علاوہ قرآن کریم اور حدیث کے حکماء سے پڑھوایا وہ طب تھا فرماتے تھے یہ ہمارا خاندانی شغل ہے چنانچہ دو تین ابتدائی کتب حضرت مولوی نورالدین صاحب سے طب کی میں نے پڑھیں پھر دو سرے کاموں میں لگ گیا ارادہ ہے کہ اپنے ایک بچے کو علم طب ایسے اصول پر پڑھواؤں کہ طب کا صحیح حصہ قائم رکھا جائے آپ کی رائے کا معلوم کرنا موجب خوشی ہو گا "۔اخبار الفضل" کی اسلامی خدمات اخبار "الفضل" نے اپنی مستقل پالیسی کے مطابق ۱۹۳۳ء میں بھی مسلمانوں کے اہم مسائل اور ان کے قومی مفاد میں گہری دلچسپی لی۔اس ضمن میں چند اہم معالمات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔السنہ شرقیہ کا تحفظ یہ افواہ مشہور ہوئی کہ اور مینٹل کالج لاہور اور السنہ شرقیہ کی حیثیت اور وقعت کم کرنے کی تجاویز پنجاب یونیورسٹی کے تحقیقاتی کمشن کے زیر غور ہیں۔اخبار الفضل نے اس پر لکھا کہ ” مسلمان قطعاً برداشت نہیں کریں گے کہ وہ زبانیں جو ان کی تہذیب ان کے تمدن ان کی شاندار روایات ان کے اسلاف کے بے مثال کارناموں اور ان کے علوم کی حامل ہونے کے علاوہ ان کے مذاہب کو بھی محفوظ کئے ہوئے ہیں انہیں ایسے صوبہ میں جہاں تمام دوسری اقوام کے مقابلہ میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے نذر تغافل ہونے دیں۔مملکت آصفیہ اور مسئلہ برار مملکت آصفیہ اور حکومت برطانیہ کے مابین مسئلہ برار مدتوں زیر بحث چلا آرہا تھا۔اخباری اطلاعات سے معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت والی دکن اور ان کے لائق و جهاندیده وزیر اعظم سراکبر حیدری اور ان کے رفقاء کار کی کوشش سے ایک باقاعدہ معاہدہ ہو رہا ہے جس کی رو سے برار کا علاقہ شہریار دکن کے سپرد کر دیا جائے گا۔اخبار " الفضل " نے اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔اور اس تصفیہ کو مملکت دکن اور اہل برار دونوں کے لئے بابرکت قرار دیا اور اہل برار کو مشورہ دیا کہ انہیں ایسے لوگوں کی باتوں کو کوئی وقعت نہیں دینی چاہئے۔جو سودیشی حکومت کے نعرے بلند کرتے ہیں مگر نہیں چاہتے کہ سب سے بڑے ہندوستانی فرمانروا کو اپنا علاقہ واپس مل جائے۔مسلمان افسر کی برطرفی پر احتجاج : سرحد کے ایک اعلیٰ مسلمان افسر (شیخ تاج محمد صاحب