تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 57 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 57

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 53 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال علاقوں میں اگر کوئی مبلغ بھیجا جائے۔تو حکام اسے نکال دیتے ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا۔ہم نے اپنا ایک مبلغ ایک علاقہ میں بھیجا۔اسے ایک بڑے ریاستی افسر نے کہا تم یہاں سے چلے جاؤ مبلغ نے مجھے لکھا کہ کیا کرنا چاہئے۔میں نے جواب دیا آپ تحریری حکم ما نگیں اور جب تک تحریری طور پر نکلنے کے لئے نہ کہا جائے نہ نکلیں جب یہ بات اس مبلغ نے اس حاکم سے کمی تو اس نے کہا جس غرض سے تم تحریر مانگتے ہو وہ ہم بھی جانتے ہیں تحریر کوئی نہیں دی جاسکتی۔اگر تم نہ نکلو گے تو کسی اور الزام میں گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا جائے گا۔ایسی حالت میں اس مبلغ کو واپس آجانا پڑا۔ان علاقوں کے مسلمانوں کی اصلاح کی ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ وہاں کے ہو شیار اور ذہین طلباء کو تعلیم دی جائے اور پھر وہ اپنے علاقہ میں مسلمانوں کی اصلاح کریں۔وہ چونکہ اسی جگہ کے باشندے ہوں گے ان کو حکام نہیں نکال سکیں گے۔اگر آپ ایسے لڑکے بھجوا ئیں تو ہم ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر دیں گے۔۱۹ جولائی ۱۹۲۸ء کو حضور کی طرف سے میاں فیملی باغبانپورہ کے ان اصحاب کو جو ڈلہوزی میں تھے چائے کی دعوت دی جس میں میاں شاہنواز صاحب بیرسٹرایٹ لاء ممبر اسمبلی میاں بشیر احمد صاحب بی اے بیرسٹرایٹ لاء عمیاں رفیع احمد صاحب خلف سرمیاں محمد شفیع صاحب اور میاں افتخار احمد صاحب شریک ہوئے۔جماعت احمدیہ کی تبلیغی خدمات ہندوستان کی ادنی اقوام میں تبلیغ اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے متعلق گفتگو ہوتی رہی جس میں سب اصحاب نے بہت دلچسپی لی۔۲۲ / جولائی ۱۹۲۸ء کو افواج علاقہ جالندھر چھاؤنی کے کمانڈنگ افسر صاحب بریگیڈیر جنرل ٹوس صاحب نے حضور سے ملاقات کی اور دو گھنٹہ تک مختلف امور پر حضور سے گفتگو کرتے رہے۔اور سلسلہ کے حالات حضور کے سفر شام، مصر اور یورپ کے حالات سنتے رہے حضور کی وسیع معلومات اور صائب رائے کا اثر کمانڈنگ آفیسر صاحب کے چہرہ سے اثنائے گفتگو میں نمایاں ہو رہا تھا۔اسی دن شیخ اصغر علی صاحب کمشنر ملتان سے حضور نے اسلامی ممالک کے حالات اور بعض دوسرے امور کے متعلق گفتگو فرمائی۔۲۳ جولائی ۱۹۲۸ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی حرم محترمہ نے مختلف اقوام و مذاہب کی خواتین کو چائے کی دعوت دی۔۲۴ / جولائی ۱۹۲۸ء کو مسٹر کار نیلیس اسٹنٹ کمشنر گورداسپور حضور کی ملاقات کے لئے آئے۔۲۹/ جولائی ۱۹۲۸ء کو حضور نے صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے کو انگلستان روانہ کرنے سے قبل لمبی دعا کے بعد رخصت کیا اور احباب دور تک انہیں الوداع کہنے کے لئے ان کے ساتھ گئے۔حضور ۵ / اگست ۱۹۲۸ء کو واپس قادیان تشریف لائے۔-