تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 759 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 759

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 723 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مرزا صاحب نے آڑے وقت میں مسلمانوں کی صحیح راہنمائی فرمائی کتاب تاریخ احمدیت جلد پنجم کشمیر کی تحریک آزادی کا بہترین مرقع ہے (ہفت روزہ انصاف (۲۱- اپریل ۱۹۶۶) نے تاریخ احمدیت جلد ششم ( طبع اول) پر حسب ذیل تبصرہ کیا) "جماعت احمدیہ کے تیسرے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد جو پچھلے سال وفات پاگئے۔مذہبی رہنما ہونے کے علاوہ عظیم سیاست دان بھی تھے۔چنانچہ چوہدری غلام عباس خان سابق صدر جموں د کشمیر مسلم کانفرنس نے اپنی خود نوشتہ سوانح حیات کے ایک باب میں لکھا تھا کہ میں نے مذہب مولانا ابو الکلام آزاد سے سیکھا جن سے میرا سیاسی اختلاف ہے اور میں نے سیاست مرزا بشیر الدین محمود احمد سے سیکھی جن سے میراند ہی اختلاف ہے۔تاریخ احمدیت جلد پنجم کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب اس جماعت کی مذہبی سرگرمیوں کی تفصیل ہوگی لیکن اس کے اوراق الٹنے سے پتہ لگتا ہے کہ یہ مسلمانان غیر منقسم ہند اور پھر اسلامیان جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کا بہترین مرقع ہے۔مرزا صاحب نے آڑے وقت میں جب کہ بہت سے مسلمان لیڈروں کی آنکھیں کانگریس کے خوشنما بہروپ سے چکا چوند ہوتی تھیں۔مسلمانان ہند کی صحیح رہنمائی اور ترجمانی کی۔اور ان کو ہندوؤں کی نیت اور عزائم سے بروقت آگاہ کیا۔اس کے بعد آپ نے تحریک آزادی کشمیر کی ۱۹۳۱ء سے قبل ہی داغ بیل ڈال دی۔اس کتاب کا مطالعہ سیاسیات کشمیر کے ہر طالب علم کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اس کے مطالعہ سے بہت ہی دلچسپ اور اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر ۱۹۳۵ء میں جب چوہدری عباس کو مسلم کانفرنس کا صدر بنایا گیا اور ان کا فقید المثال دریائی جلوس نکالا گیا تو مجلس استقبالیہ کے صدر خواجہ غلام نبی گلکار حال انور تھے اور رضا کاروں کی وردیاں قادیان سے بن کر آئی تھیں۔۱۹۳۲ء میں شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ نے گڑھی حبیب اللہ حال پاکستان میں مرزا صاحب موصوف سے ملاقات کرنی تھی تو شیخ صاحب کو یار لوگوں نے کار میں لٹا کر اور اوپر کپڑے ڈال کر ریاست کی حدود سے باہر سمگل کیا۔کتاب میں علامہ اقبال مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبد الله سردار گوہر رحمان عبد المجید قرشی اور چوہدری