تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 52
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 52 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال تک حضور سے گفتگو کرتے رہے انہوں نے پوچھا۔آپ تو ہر سال خوب سفر کرتے ہوں گے۔حضور نے فرمایا۔ہماری جماعت کا انتظام دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہے۔ہر کام کے صیغے مقرر ہیں۔دفتری کاموں سے متعلق کار کن مجھ سے مشورہ لیتے ہیں۔اس وجہ سے زیادہ دیر تک مرکز سے باہر رہنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح بیرونی جماعتیں نہ صرف جماعتی کاموں سے متعلق بلکہ اپنے پرائیویٹ معاملات کے متعلق بھی مشورے لیتی ہیں ڈیڑھ دو سو کے قریب روزانہ خطوط آتے ہیں ان حالات میں بمشکل دو ایک ماہ تبدیلی آب و ہوا کے لئے باہر رہ سکتا ہوں۔باہر سے بھی ضروری کاموں کے متعلق ہدایات دیتا رہتا ہوں اور ضروری کاغذات یہاں بھی آتے ہیں۔ٹکہ صاحب نے حضور سے مختلف نوعیت کے مذہبی و سیاسی سوالات کئے۔مثلاً احمدیوں اور غیر احمدیوں میں کیا فرق ہے ؟ ہندو مسلمانوں میں اتحاد کیونکر ہو سکتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔حضور نے ان کے مفصل جوابات دیئے۔اسی روز نماز عصر کے بعد سردار حبیب اللہ صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کو چائے کی دعوت پر بلایا گیا تھا۔حضور نے مسلم اتحاد کی نسبت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا جب تک مسلمانوں کے اتحاد کی بنیاد اس بات پر رکھی جائے گی کہ ان سے (جبرا) کچھ باتیں چھڑائی جائیں اور سب کو ایک جیسے عقائد پر جمع کیا جائے اس وقت تک اتحاد نہ ہو گا۔اتحاد کی واحد صورت یہ ہے کہ رواداری سے کام لیا جائے۔کسی کے مذہبی عقائد سے تعرض نہ کیا جائے اور مشترکہ مسائل میں مل کر کام کیا جائے۔۱۵/ جولائی ۱۹۲۸ء کو بابو ابو سعید صاحب احمدی ریڈرشن بج گورداسپور نے حضور کے اعزاز میں حضور ہی کے جائے قیام پر چائے کی دعوت دی۔دعوت میں ۲۰-۲۵ کے قریب معززین شامل تھے۔جن سے حضور نے پروہ ترکوں کا اسلام سے تعلق ، شاہ کابل کا سفر یورپ اور دیگر ممالک میں تبلیغ اسلام وغیرہ مسائل پر گفتگو فرمائی۔۱۷ / جولائی ۱۹۲۸ء کو چوہدری سر شهاب الدین صاحب پریذیڈنٹ لیجسلیٹو کو نسل پنجاب نے حضور کو مع رفقاء اپنی کو ٹھی میں دعوت دی جس میں بعض اور معززین بھی مدعو تھے۔حضور چوہدری شہاب الدین صاحب شیخ اصغر علی صاحب کمشنر ملتان سے مسلمانوں کی موجودہ حالت اور اس کی اصلاح کے متعلق گفتگو فرماتے رہے۔۱۸ جولائی ۱۹۲۸ء کو ایک کشمیری پیر حضور سے ملنے کے لئے تشریف لائے جو پہاڑی ریاستوں میں مسلمانوں کی افسوسناک حالت اور ریاستوں کے مظالم کا ذکر کرتے رہے اور عرض کیا کہ اسلام کو اس زمانہ میں سب سے زیادہ نقصان خود علماء پہنچارہے ہیں۔آپ ہی کی جماعت ہے جو اس وقت مسلمانوں کو بچا سکتی ہے۔آپ ضرور ان علاقوں کے مسلمانوں کے لئے بھی کوئی انتظام فرما ئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا۔ہم مسلمانوں کی ہر طرح امداد کرنے کے لئے تیار ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ ان