تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 753 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 753

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 717 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ 叫 حواشی حصہ دوم (پانچواں باب) مکاتیب اقبال حصہ اول صفحہ ۳۹۶- (مکتوب ۱۲ اکتوبر ۱۹۳۳ء) شائع کرده شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور۔مجلس احرار اسلام کا رسالہ تبصرہ لاہور (اکتوبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں لکھتا ہے۔کشمیر کمیٹی کی بنیاد ۱ ۱۹۳ ء میں چند اعتدال پسند لوگوں نے رکھی تھی میاں سر محمد شفیع سر فضل حسین ، میاں امیر الدین اور شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال کے ساتھ قادیان کے خلیفہ بشیر الدین محمود بھی اس ادارہ میں شامل تھے اس کمیٹی کے انتخاب سے مرزا بشیر الدین محمود کو صدر اور عبدالرحیم درد (مرزائی) کو سیکرٹری منتخب کیا گیا۔حضرت امیر شریعت (جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری۔ناقل ) ڈاکٹر اقبال کو مرشد اور ڈاکٹر اقبال حضرت شاہ صاحب کو پیر جی کہا کرتے تھے۔کشمیر کمیٹی کے سلسلہ میں ان دونوں کے درمیان چودھری افضل حق کی معیت میں کئی ملاقاتیں ہوئیں۔اور طے پایا کہ بشیر الدین محمود اور عبد الرحیم درد کو اگر ان کی موجودہ زمہ داری سے نہ ہٹایا گیا۔تو کشمیر کے ۳۲ لاکھ مظلوم مسلمان کفر دار مداد کا شکار ہو جائیں گے انڈا بہتر ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی باگ ڈور مجلس احرار کے سپرد کر دی جائے۔الفضل ۲۳/ مئی ۱۹۳۳ء صفحه ۲ الفضل ۱۳/ جولائی ۱۹۳۳ء صفحہ ۴۔ه الفضل ۱۶/ جولائی ۱۹۳۳ء صفحہ ۲۔الفضل ۱۳ جولائی ۱۹۳۳ء۔اصل خط کشمیر کمیٹی کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔- الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۳۳ء صفحه ۱۰ کالم ۲ - الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۳۳ء صفحه ۱۰ کالم ۳ الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۳۳ء صفحه ۱۰ کالم - -1 الفضل ۲۷/ جون ۱۹۳۳ء صفحه ۲ الفضل ۱۷ اگست ۱۹۳۳ء صفحه ۲ کالم ۳ ۱۳ بحواله الفضل ۲۸/ مئی ۱۹۳۳ء صفحہ ۸ کالم ۳- الفضل ۲۵/ جون ۱۹۳۳ء صفحه ۱۲- ۱۵ بحواله الفضل قادیان مورخه ۲۹/ جون ۱۹۳۳ء صفحه ۱۴۱۰ انقلاب ۱۰ ستمبر ۱۹۳۳ء صلحہ سے بحوالہ الفضل ۱۹/ ستمبر ۱۹۳۳ء صلحه ۰۸۰۷ مکاتیب اقبال حصہ اول صفحه ۴۳۵ ۱۸ ذکر اقبال صفحه ۱۸۸) مولفہ عبد المجید صاحب سالک) 19 قریشی محمد اسد اللہ فاضل کا شمیری کے ایک غیر مطبوعہ مقالہ سے ماخوذ اسداللہ مقالہ سے انور ۲۰۔سمو ہے اصل نام ہے نعیم الحق۔۲۱ جناب قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل مربی سلسلہ احمدیہ کے غیر مطبوعہ مقالہ سے ماخوذ ۲۲ انقلاب ۱۹/ ستمبر ۱۹۳۳ء د ریکارڈ کشمیر کمیٹی۔شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا محط - السلام علیکم۔قبل بھی ایک عریضہ ارسال خدمت کر چکا ہوں اب پھر التماس ہے کہ میری رائے ناقص میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کام برابر جاری رکھا جائے اور جو کمیٹی پہلے بنی تھی وہ برابر کام کرے یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ اس کی ہر سیاسی جماعت کی خود غرضی باہمی اتفاق کو نقصان پہنچا کر ساری قوم کو نقصان پہنچانے کے لئے اور نیز اس انجمن کو