تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 747
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 711 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ہمیشہ جب محاذ کشمیر پر فرقان فورس کے مجاہدین حضور کی محاذ یر آمد سے مل کر ان کی حوصلہ افزائی کے لئے بنفس نفیس تشریف لائے تو اس وقت آپ کے ہمراہ اخباری نمائندوں کی ایک جماعت بھی تھی۔حضور نے ظہر عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں۔سب کے ساتھ بیٹھ کر دوپہر کا کھانا تناول فرمایا۔اس موقعہ پر فوجی کرتب دکھائے جانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا اور ایک رنگارنگ تقریب منعقد ہوئی۔جس میں پاک آرمی کے بہت سے آفیسرز کے علاوہ بہت سے مختلف رینک کے عہدیدار اور سپاہی بھی مدعو کئے گئے تھے جنہوں نے احمد کی مجاہدین کے نہایت عمدہ اور صاف ستھرے فوجی کارنامے دیکھے جن سے بہت ہی لطف اندوز ہو کر انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے۔حضور نے قرآن پاک اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں اصحاب رسول اللہ و مجاہدین اسلام کے سنہری فوجی کارناموں اور فتوحات کی روشنی میں مجاہدین و حاضرین کو اپنے نہایت قیمتی و بیش بہا نصائح سے سرفراز فرمایا۔نیز فرمایا شیر ولی جناب آپ رہیں۔صلوۃ خوف بھی سکھا ئیں۔حضور نے اپنے خطاب میں ان فوجی افسران سے دریافت فرمایا کہ اب آپ یہ فیصلہ کریں کہ آرمی اور ان مجاہدین کی تربیت میں کس کا کام بہتر ہے ؟ اس پر انہوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ مجاہدین کی کارکردگی آرمی کے جوانوں سے بدرجہا بہتر ہے۔اس پر حضور نے ان سے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تنخواہ لے کر دشمن کے مقابلے پر آئے ہیں اور یہ مجاہد جذبہ جہاد اسلام سے سرشار ہو کر دشمن کے مقابلہ پر آئے اور سینہ سپر ہیں۔اس تقریب کے اختتام پر " نشان " یعنی بہترین انعام جو کہ انعامی جھنڈا تھا شوکت کمپنی کو دیا گیا جسے حضور نے اپنے دست شفقت سے پلاٹون کمانڈر چوہدری عنایت اللہ صاحب کے ہاتھوں میں پکڑا دیا۔تمام حاضرین نے بارک اللہ لک کی صدا بلند کی اور یوں یہ مبارک تقریب سعید اختتام پذیر ہوئی۔الحمد لله جناب شیر ولی صاحب کے وقت میں جو اہم واقعات رونما ہوئے۔ان جناب شیر ولی صاحب میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں۔آپ نے با گسر محاذ پر پہنچ کر احمدی مجاہدین کشمیر کی فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تربیت و اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ مرکوز رکھی۔آپ کے وقت میں ہر کمپنی کی حدود میں کمپنی کمانڈروں کی زیر نگرانی فوجی مشقیں کرانے کا باقاعدہ سلسلہ جاری ہوا۔جناب شیر ولی صاحب نے با گسر سے سوکھے تلاؤ تک فرقان کا پہلا روڈ مارچ کروایا۔آپ ہی کے وقت میں ڈاکٹر گراہم کے پاکستان آنے پر