تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 746
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 710 تحریک آزادی کشمیر ا و ر جماعت احمدیہ ٹرینگ کشمیر محاذ جنگ پر آنے والے مجاہدین کو ان کے معینہ عرصہ قیام میں فوجی کرتب سے حتی الوسع پورے طور پر تربیت دے کر اس قابل بنا دیا جاتا تھا جس سے وہ دشمن کی حدود میں داخل ہو کر پیٹرولنگ کرتے ہوئے خبریں حاصل کر لاتے تھے۔مثلاً انہیں- ڈرل پی ٹی روڈ مارچ - رائفل ٹرینگ - شین گن - 36۔H۔E گرنیڈ - ۲ مارٹر - سمارٹر۔ویری لائٹ پسٹل ریوالوار - برین گن فائرنگ کی مشق کے علاوہ دشمن پر فائرنگ بھی کروائی جاتی تھی۔اس کے علاوہ فیلڈ کرافٹ ایئر کرافٹ ٹیچر ٹینکر۔نائٹ پریڈ - بینٹ فائٹنگ - ریک۔ڈیفس- در ڈرال - یونیفارم کا استعمال۔ملٹری کے عہدوں کی پہچان وغیرہ وغیرہ - ٹریننگ دے کر اس قابل بنا دیا جاتا تھا کہ مجاہد بخوبی پورے بھروسہ اور مستعدی دو ثوق کے ساتھ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے۔ہمارے کئی ایک مجاہد دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہونے کے علاوہ شہید بھی ہوئے۔جن کی قبریں باکسر - سوکھا تلا نمبر میں موجود احمدی مجاہد اسلام و فرقان بٹالین کی آج بھی علمبردار نظر آتی ہیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی تربتوں پر اپنی بے پایاں رحمتیں۔برکتیں نازل فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات سے نوازے۔(آمین) مجاہد جب اپنا معینہ عرصہ مکمل کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے تو گھر جانے سے قبل ان کا با قاعدہ امتحان لے کر اس بات کی سند دی جاتی تھی کہ جو کچھ ٹرینگ کے دوران میں انہوں نے محاذ پر سیکھا ہے۔واقعی یہ مجاہد اس سند اور شاباش کے مستحق ہیں۔ساتھ کے ساتھ دینی مشاغل بھی لازمی حصہ تھے جنہیں نہایت عمدگی و احترام کے ساتھ باد قار طریق پر ادا کیا جاتا تھا۔مثلاً نماز با جماعت تلاوت قرآن پاک درس و تدریس - تاریخ اسلام و مجاہدین اسلام کے کار ہائے نمایاں۔اسلامی روایات پر عمل پیرا ہونے کا پورا پورا انتظام ہونے کے علاوہ قرآن پاک ناظره و با ترجمہ۔نماز معہ ترجمہ سکھانے کا بھی انتظام کیا ہوا تھا اور یوں مجاہدین کو جہاد کی غرض و غایت سے پورے طور پر آگاہ کیا جاتا۔جس سے پورے پورے اخلاص و محبت اور جوش و خروش کے ساتھ جذبہ حق کو قائم و دائم رکھنے کے لئے وہ خدا تعالیٰ کی حدود کی حفاظت میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرتے ہوئے قوم کی عزت و ناموس اور ملک کی سرحدوں کی آخری سانس تک حفاظت کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے اور کسی حالت میں بھی دشمن خدا اور شمن اسلام کے سامنے اپنے ہتھیار نہ گراتے اور اس طرح سے وقت آنے پر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرتے ہوئے اس کے دربار میں اپنے آپ کو پیش کر دیتے اور اسلام کا پرچم ہر قیمت پر سر بلند رکھتے۔