تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 734
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 706 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کمانڈر انچیف پاکستان کا پیغام کمانڈر انچیف پاکستان کے انگریزی پیغام کا ترجمہ یہ ہے:۔آپ کی بٹالین خاص رضا کار بٹالین تھی جس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے ان میں کسان بھی تھے اور مزدور پیشہ بھی کاروباری لوگ بھی تھے اور نوجوان طلباء و اساتذہ بھی۔وہ سب کے سب خدمت پاکستان کے جذبہ میں سرشار تھے آپ نے اس قربانی کے بدلے میں جس کے لئے آپ میں سے ہر ایک نے اپنے آپ کو بخوشی پیش کیا کسی قسم کے معاوضہ اور شہرت و نمود کی توقع نہ کی۔آپ جس جوش اور ولولے کے ساتھ آئے اور اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری کے لئے تربیت حاصل کرنے میں جس ہمہ گیر اشتیاق کا اظہار کیا اس سے ہم سب بہت متاثر ہوئے ان تمام مشکل مراحل پر جو نئی پلٹن کو پیش آتے ہیں آپ کے افسروں نے بہت عبور حاصل کر لیا۔کشمیر میں محاذ کا ایک اہم حصہ آپ کے سپرد کیا گیا اور آپ نے ان تمام توقعات کو پورا کر دکھایا جو اس ضمن میں آپ سے کئی گئی تھیں۔دشمن نے ہوا پر سے اور زمین پر سے آپ پر شدید حملے کئے لیکن آپ نے ثابت قدمی اور اولوالعزمی سے اس کا مقابلہ کیا اور ایک انچ زمین بھی اپنے قبضہ سے نہ جانے دی آپ کے انفرادی اور مجموعی اخلاق کا معیار بہت بلند تھا اور تنظیم کا جذبہ بھی انتہائی قابل تعریف !! اب جبکہ آپ کا مشن مکمل ہو چکا ہے آپ کی بٹالین تخفیف میں لائی جارہی ہے میں اس قابل قدر خدمت کی بناء پر جو آپ نے اپنے وطن کی انجام دی ہے آپ میں سے ہر ایک کا شکریہ ادا کر تا ہوں خدا حافظ فرقان بٹالین کے جوان سبکدوشی کے بعد سرائے عالمگیر سے مجاہدین کا پُر جوش استقبال بذریعہ سپیشل ٹرین ۲۰ جون ۱۹۵۰ء کو ساڑھے نو بجے ربوہ پہنچے اسٹیشن پر ان کا پر جوش استقبال کیا گیا۔اور کرنل صاحبزادہ مبارک احمد صاحب اور دوسرے تمام مجاہدوں کو پھولوں کے ہار پہنائے اور ان پر پھول نچھاور کئے گئے۔بٹالین کے تمام مجاہد پلیٹ فارم پر ترتیب دار ایستادہ ہوئے ان کے ورد زبان وہی مسنون دعائیں تھی جو آنحضرت ا جہاد سے واپسی کے وقت پڑھا کرتے تھے چنانچہ سب مجاہد با آواز بلند یہ دعا پڑھنے میں مصروف تھے البون تائبون حامدون لربنا ساجدون انہوں نے صحابہ کرام کی اتباع میں نہایت جوش کے ساتھ یہ شعر بھی پڑھا۔نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا ابدا