تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 716 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 716

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 688 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ -۲ پروفیسر محمد اسحاق صاحب قریشی ایم۔اے سابق قائم مقام جنرل سیکرٹری مسلم کانفرنس کا بیان ہے۔۲۱ / ستمبر ۱۹۴۷ء میں جب مجھے تین سال کے لئے ریاست بد ر کر دیا گیا تو ہمقام لاہور وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان مرحوم نے ایک سیاسی میٹنگ میں مجھے کہا کہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ساتھ رابطہ قائم کروں کیونکہ کشمیر کے کام کے سلسلے میں میرے سپرد بحیثیت جنرل سیکرٹری مسلم کانفرنس ایک ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب سے رابطہ قائم کیا۔اور اس سلسلہ میں ان کے ساتھ ستمبر اکتوبر نومبر میں تین چار ملاقاتیں پریذیڈنٹ مسلم کانفرنس چودھری حمید اللہ خان کے ساتھ کیں۔اور اس کے علاوہ تنہا ملاقاتیں بھی کیں۔میں ذاتی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ امام جماعت احمد یہ کشمیر کی آزادی کے سلسلہ میں بہت اہم رول ادا کر رہے تھے۔اور حکومت پاکستان کے وزیر اعظم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ اس سلسلہ میں انہیں حمایت حاصل تھی۔اور حضرت صاحب جو کچھ کہہ رہے تھے حکومت کے علم کے ساتھ کہہ رہے تھے۔میں متعدد بار حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد سے ملا ہوں۔اور کشمیر کو آزاد کرنے کے سلسلے میں جو تڑپ میں نے ان کے دل میں دیکھی ہے۔وہ دنیا کے بڑے بڑے محب وطنوں میں ہی پائی جاتی ہے۔اس موضوع پر میں نے ان کے ساتھ بڑی طویل ملاقاتیں کی ہیں اور میں نے ان جیسی صاف سوچ اور ان جیسا تدبر بہت کم مدبروں میں دیکھا۔میرا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن میں نے میاں بشیر الدین صاحب کا ان جذبات کے لئے ہمیشہ احترام کیا ہے۔میں نے اب تک حضرت مرزا صاحب جیسا عالی دماغ مد بر اور آزادی کشمیر میں مخلص کسی کو نہیں دیکھا۔تمبر اکتوبر کو میری ملاقاتوں میں اور اہم سیاسی میٹنگوں میں یہ طے پایا کہ جہاد کشمیر کے آغاز سے پہلے ایک مفصل منشور تیار کر لیا جائے۔جس کا اعلان جنگی بنگل بجنے سے پہلے کر دیا جائے۔یہ ایک قسم کا سیاسی منشور تھا جس میں جہاد کی غایت اور کشمیر کو فتح کرنے کے بعد نظم ونسق کی تشکیل اور اہل کشمیر کا حق خودارادیت وغیرہ شامل تھے۔به مسوده فیض احمد فیض سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز اور میں نے تیار کیا تھا۔بعد میں یہ مسودہ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کو دکھایا انہوں نے اس پر قومی نقطہ نظر سے بعض ترامیم کیں اس کے بعد یہ مسودہ ایک بڑی سیاسی کمیٹی نے منظور کر لیا اور اس کے اعلان کے لئے تاریخ اور وقت کے تعین کا کام اس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔مگر بعد میں حالات خراب ہو جانے کی وجہ سے اس ترتیب سے جہاد کا کام نہیں ہوا۔جس ترتیب سے اس منشور میں تجویز کیا گیا تھا۔۱۰۴