تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 706
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 678 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل ششم) ۱۹۳۸ء کی ایجی ٹیشن میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی رہنمائی اور مسلم کانفرنس کا احیاء سرینگر میں مسلمانوں کے جلوس پر لاٹھی چارج سرینگر کے ہندو اخبار "مار تن " جون ۱۹۳۷ء) نے ایک پنڈت صاحب کی تقریر کا خلاصہ شائع کیا جس میں یہ فقرات بھی تھے کہ گائے کو ہندو اسی احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جس طرح مسلمان حضرت محمد کو۔" ان الفاظ پر مسلمانان سرینگر نے ۲۷/ جون ۱۹۳۷ء کو میر واعظ محمد یوسف شاہ صاحب کی رہنمائی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا۔یہ جلوس جب نر پرستان پہنچا تو پولیس کی بھاری جمعیت نے اس پر لاٹھی چارج کر دیا جس سے پانچ سو کے قریب اشخاص زخمی اور بعض قریب المرگ ہو گئے۔علاوہ ازیں میر واعظ محمد یوسف شاہ صاحب اور بعض دوسرے سر کردہ مسلمان گرفتار کرلئے گئے۔اور میر واعظ صاحب ہمدانی اور مولوی غلام نبی صاحب کی زبان بندی کردی گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو اس حادثہ کی اطلاع ہوئی تو حضور نے فی الفور بذریعہ تار کچھ رقم مجرد حین و مظلومین کی امداد کے لئے بھجوا دی اور حکم دیا کہ آپ کے نمائندے مجرد ھین و مظلومین کے پاس اسے پہنچا دیں۔چنانچہ خواجہ غلام نبی صاحب گلکار اور مولوی عبد الواحد صاحب مدیر اعلیٰ اخبار ” اصلاح" نے احمدی نمائندوں کی حیثیت سے اسی روز شام کو مجروحین اور ان کے لواحقین سے ملاقات کر کے قولی و عملی رنگ میں اظہار ہمدردی کیا۔اخبار "اصلاح" نے پولیس کے مظالم کی رپورٹ اور مہاشہ محمد عمر صاحب کے مضامین شائع کئے جن میں ثابت کیا گیا تھا۔کہ دیدوں کی رو سے گائے کا گوشت کھانا جائز ہے۔ریاست میں ابھی تک گائے کے ذبیحہ پر دس سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی تھی۔اس لئے ان مضامین کی اشاعت بغاوت کے مترادف قرار دے کر اخبار "اصلاح " بلیک لسٹ کر دیا گیا۔اسی زمانہ میں سرینگر کے سناتنی اخبار "وکیل" نے تمام مسلم لیڈروں، مولویوں اور مذہبی