تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 704 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 704

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 676 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ ہیں عوام میں آپ کی ان خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے یہ مفلوک الحال قوم آپ کی ہمدردیوں کا اور کیا صلہ دے سکتی ہے اہل بلتستان کی یہ زبردست خواہش ہے کہ آپ پھر امسال اس طرف تشریف لائیں اور اپنے پہلے دورہ اور اخباری مضامین کے نیک نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھیں "۔کشمیر کے مسلم پریس کی تنظیم تنظم کشمیر میں مسلمان اخبار نویسوں کی باہمی آویزش اور کشمکش کے باعث اخبار نویسوں کی انجمن کے عہدوں پر ہندو قابض تھے۔چوہدری عبد الواحد صاحب نے سرینگر آکر مسلم پریس منظم کیا اور مسلمانوں کا بھی اس میں اثر و نفوذ شروع ہوا۔چوہدری صاحب مسلسل پانچ سال تک پریس کانفرنس کے صدر رہے۔1 1A کشمیر ایسوسی ایشن کو خراج تحسین جموں و کشمیر مسلم پولیٹیکل کانفرنس ۱۹۳۳ء کے موقعہ پر شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے صدارتی تقریر کے دوران فرمایا۔"جب تحریک حریت کی ابتداء ہوئی۔ہندوستان کے سر بر آوردہ مسلمانوں نے شملہ میں ایک میٹنگ کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی۔اس انجمن نے مالی اور جانی رنگ میں قربانی دے کر ہماری مدد کی۔ہماری تکالیف سے دنیا کو مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک آگاہ کیا یورپ اور امریکہ میں پرو پیگنڈا کیا۔تحریک کے حامیوں ، مظلومین اور شہداء کے پسماندگان کو مدددی اور ہر حالت میں بے لوث اور ہمدردانہ خدمات انجام دیں۔جب تحریک کشمیر اور سنجیدہ ہو گئی تو ہندوستان کے ہزا رہا مسلمان جیلوں میں گئے اور جام شہادت پیا اب آئینی رنگ میں کشمیر ایسوسی ایشن ہماری مدد کر رہی ہے۔آل انڈیا کا نفرنس نے تحریری رنگ میں مظلومین کشمیر کی امداد کی اس لئے یہ سب افراد اور جماعتیں دلی شکریہ کے مستحق ہیں"۔اخبار "اصلاح » کشمیر ۲۳/ نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲-۳) شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ صاحب کے قابل سرینگر کے اخبار اصلاح (۴/ جولائی ۱۹۳۵ء) نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت صفحہ اول پر قدر ارشادات اور اسلامیان کشمیر کا فرض حسب ذیل نوٹ سپر د اشاعت کیا۔شیخ صاحب نے ایک پوسٹر کا جواب دیتے ہوئے 19 جون کو مسلمانوں کے ایک عظیم الشان اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے جو کچھ کہا وہ اس قابل ہے کہ مسلمان اس کو اپنے دلوں پر لکھیں اور کوئی مسلم گھر ایسانہ رہ جائے جس میں یہ الفاظ آویزاں نہ ہوں۔تعلیم یافتہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ شیخ صاحب کے بیان کردہ اصول پر تمام مسلمانوں کو عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں اگر جمہور مسلمان اس ایک اصول پر کار بند ہو