تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 703
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 675 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ صعب انگیز ا د ر نا موافق حالات میں ڈوڈہ ، بھدرواہ، یو نجوہ کشتواڑ مردہ داروں کا پیدل سفر کر کے یہاں کے حالات کو حکومت کے کانوں تک پہنچایا ہے اس کے لئے میں اپنے تمام علاقہ کے لوگوں کی طرف سے مولوی صاحب موصوف کا شکریہ ادا کر تا ہوں"۔سردار فتح محمد خاں صاحب ممبر کشمیر اسمبلی پونچھ نے ادارہ "اصلاح " کی ان گراں بہا اور بے لوث اور جرأت آموز خدمات کا اقرار کرتے ہوئے لکھا۔آپ کے پیر صاحب اعلیٰ کے موجودہ دورہ پونچھ کے حالات اخبار "اصلاح" میں پڑھے ان کی یہ محنت و جانفشانی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے ہمارے علاقہ کے پہاڑی راستوں کے سفر کی صعوبتیں اٹھا کر ہمارے حالات اور جائز شکایات سے واقفیت حاصل کر کے ان کے ازالہ کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے پونچھ کے علاقہ کا ہر فرد بشر جو معمولی سمجھ بھی رکھتا ہے۔ان کے اس جذبہ خدمت خلق کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بلکہ ہر عقل سلیم رکھنے والے انسان کا سر تشکر و امتنان کے جذبات کے بوجھ سے جھک جاتا ہے جب وہ غور کرتا ہے کہ ایک ایڈیٹر جس کا کام صرف اپنے دفتر میں بیٹھ کر سمند قلم کی باگ اٹھانا ہوتا ہے۔محض مخلوق خدا کی ہمدردی کے پیش نظر اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے۔اور شہر بہ شہر قریہ یہ قریہ پیدل چل کر پہنچتا ہے۔اور لوگوں سے ان کے حالات دریافت کرتا ہے۔کسی جگہ اسے بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے۔کہیں اسے بارش میں بھیگنا پڑتا ہے۔اور کہیں دھوپ کی سختی اس کے ایثار و استقلال کا امتحان لیتی ہے۔بھوک اور پیاس اسے تنگ نہیں کرتیں کیونکہ وہ ان سے مانوس ہو چکا ہے۔یہ بیچارہ دن کو بڑے بڑے خوفناک جنگلوں اور بے آب و گیاہ وادیوں میں سے سفر کرتا ہے اور چوتھائی شب گزرے جب کسی غریب کسان یا گو جر کے مکان پر پہنچتا ہے۔تو گھاس پھوس کے فرش پر بیٹھ کر اپنے افلاس زدہ بے کس میزبان سے اس کے ذاتی اور گردو پیش کے حالات دریافت کرتا ہے لسی کا ایک گلاس پی کر کہ وہی اس کے نادار مگر متواضع میزبان سے میسر آسکا۔یہ انتھک انسان اس علاقہ کے غریب دیہاتیوں کی داستان رنج و محن کا قلمی فوٹو صفحہ قرطاس پر کھینچنا شروع کرتا ہے اور ساتھ ہی بار بار حکومت کو اس کے خزانے بھرنے والے کی تکالیف کے سدباب کی طرف توجہ دلاتا جاتا ہے دعا ہے کہ خدا تعالی آپ کو اس سے بھی زیادہ خدمت خلق کی توفیق عطا فرمائے۔(سردار فتح محمد خان ممبر کشمیر اسمبلی پونچھ) علاقہ بلتستان کے مسلمانوں نے مندرجہ ذیل الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔” بخدمت جناب مولانا صاحب مد ظلہ السلام علیکم۔آپ نے اپنے دورہ اور اس کے بعد اپنے جریدہ کے ذریعہ اہل بلتستان کی جو گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں ان کے لئے اہل بلتستان ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے ممنون ہو گئے