تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 697
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 669 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فصل چهارم حضرت خلیفہ کشمیر کی پہلی اسمبلی کا قیام اور مسلم کانفرنس کی سو فیصدی کامیابی المسیح الثانی ایده ۵۳ اللہ تعالی نے وسط ۱۹۳۲ء میں جبکہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور دوسرے زعماء کشمیر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے اہل کشمیر کو ہو شیار کیا کہ :- " آپ لوگ تیار رہیں کہ اگر خدانخواستہ قومی کارکنوں کو جلدی آزادی نہ ملی اور ان کی آزادی سے پہلے اسمبلی کے انتخابات ہوئے (گو مجھے امید نہیں کہ ایسا ہو) تو ان کا فرض ہونا چاہئے کہ۔۔۔قومی کام سے ہمدردی رکھنے والوں کو امید وار کر کے کھڑا کر دیں۔اور یہ نہ کریں کہ کانگریس کی نقل میں بائیکاٹ کا سوال اٹھا دیں۔بائیکاٹ سے کچھ فائدہ نہ ہو گا کیونکہ آخر کوئی نہ کوئی ممبر تو ہو ہی جائیگا۔اور قومی خیر خواہوں کی جگہ قومی غداروں کو ممبر بننے کا موقعہ دینا ہرگز عظمندی نہ کہلائے گا۔مسلمانان ریاست کے لئے اسمبلی کا کوئی تجربہ نہیں تھا جس کے لئے پوری ٹریننگ کی ضرورت تھی لہذا ریاست ٹراو کور کے چیف سیکرٹری (کے۔جارج بی-اے) سے خط و کتابت کر کے اسکی لیجسلیٹور اسمبلی اور میونسپلٹی کے مطبوعہ انتخابی اصول و قواعد منگوائے اور ان کی روشنی میں مسلم کانفرنس کے کارکنوں کو الیکشن کے لئے تیار کرنے کا انتظام شروع کر دیا۔اسی اثناء میں شیخ عبد اللہ صاحب رہا ہو گئے مگر چونکہ بہت سے مسلمان قیدی جیل میں پڑے ہوئے تھے اس لئے وہ انتخاب کے بارے میں ریاست سے تعاون کرنے پر رضامند تھے لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے زور دیا کہ مسلم کا نفرنس انتخاب میں ضرور حصہ لے۔چنانچہ مسلم کانفرنس نے اپنے نمائندے کھڑے کر دیئے ۵ / ستمبر ۱۹۳۴ء کو امیدواران اسمبلی کے نتائج سنائے گئے۔اور خدا کے فضل و کرم سے مسلم کانفرنس کو سو فیصدی کامیابی حاصل ہوئی۔اور اس کے تمام نامزد ممبر جیت گئے کامیاب امیدواروں کے نام یہ ہیں:۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب وکیل - خواجہ علی محمد صاحب خواجہ احمد اللہ صاحب شہداد - غلام محمد صاحب صادق - سید حسین شاہ صاحب جلالی - DC ۱۵۳ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے اہم مکتوبات مسلم کانفرنس کی مشکلات اور اس کی شاندار کامیابی کا صحیح موازنہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب شیر کشمیر کے ان خطوط سے با آسانی ہو سکتا ہے۔جو انہوں نے انتخابات اسمبلی کے دوران حضرت خلیفتہ