تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 680 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 680

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 652 تحریک آزادی کشمیراء ، جماعت احمد بیه نے یا اس کے ساتھیوں نے جو کچھ اب تک کیا تھا۔وہ صرف اپنے مذہبی پیشوا کے حکم کی تعمیل میں کیا تھا۔میں نے اس بیان کو احمدیوں کے عام نقطہ نگاہ کا اعلان خیال کیا تھا۔اور مجھے اس وقت کشمیر کمیٹی کے مستقبل کے متعلق خطرات پیدا ہو گئے تھے۔جہاں تک کشمیر کمیٹی کی عام پالیسی کا تعلق ہے میرے علم میں ممبروں میں کوئی اختلاف نہیں ہے اگر پالیسی میں عام اختلاف ہو تو کمیٹی کے اندریا کسی پارٹی کے بنے پر کوئی اعتراض نہیں رکھ سکتا لیکن کشمیر کمیٹی میں جو اختلاف رونما ہیں وہ ایسے وجوہات کی بناء پر ہیں جو میری رائے میں بالکل غیر متعلق ہیں مجھے یقین نہیں کہ کشمیر کمیٹی آئندہ سکون کے ساتھ کام کر سکے گی اور میں محسوس کرتا ہوں کہ تمام پارٹیوں کے مفاد میں یہی بات ہے کہ موجودہ کشمیر کمیٹی کو توڑ دیا جائے لیکن کشمیر کے مسلمانوں کو برطانوی ہند میں ایک کشمیر کمیٹی کی اعانت اور راہنمائی کی ضرورت ہے اگر برطانوی ہند کے مسلمان ان کی اعانت اور راہنمائی کرنا چاہیں تو وہ ایک پبلک جلسہ منعقد کر کے ایک نئی میر کمیٹی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں میں نے ان وجوہ کو جنہوں نے مجھے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا بلا کم و کاست بیان کر دیا ہے میں امید کرتا ہوں کہ میری صاف گوئی سے کوئی شخص ناراض نہ ہو گا کیونکہ یہ صاف گوئی کسی سے عداوت کی بناء پر نہیں ہے "۔ا۔علامہ صاحب نے دانشمندی سے بیان نہیں کیا کہ جس روز شملہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا بطور صد را انتخاب علامہ اقبال ہی کی تحریک پر عمل میں آیا تھا اور جن لوگوں نے ان کے عقائد کی وجہ سے ان کے انتخاب کو صحیح نہ سمجھا تھا۔علامہ اقبال نے ان کے اندیشہ پر کمزوری کی پھبتی اڑائی تھی۔۔ممکن ہے کہ حضرت علامہ کا یہ خیال صحیح ہو کہ کشمیر کمیٹی کے قادیانی ارکان تدبر و دانشمندی کی تدابیر کی بجائے اپنے امام کی تائید کرتے ہیں لیکن جس اجلاس میں علامہ اقبال مستعفی ہوئے اس میں کوئی ایسا مظاہرہ نہیں ہوا البتہ اگر کسی نے مجالس کے بنیادی اصول و دستور کو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے اشارے پر قربان کیا تو وہ خود علامہ اقبال تھے۔جس کی تفصیل آگے چل کر بیان کی جائے گی۔۔جس جلسہ میں علامہ اقبال مستعفی ہوئے وہ ۱۸ جون کو ہوا تھا اس جلسہ میں پہلی قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔۔اس کے بعد آئین مجلس کا معاملہ پیش ہوا۔پہلی دفعہ جو نام کے متعلق تھی بالاتفاق منظور ہوئی مقاصد کے دو حصے تھے دونوں لفظی ترمیم کے بعد اتفاق آراء سے پاس ہوئے۔تیسری دفعہ میں خاکسار نے تین ترمیمیں پیش کیں۔دو اتفاق رائے سے منظور ہوئیں۔تیسری یہ تھی کہ ممبری کی درخواست پر کمیٹی کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگی۔یہ بہت بحث کے بعد ووٹ کے لئے پیش ہوئی۔دس روٹ اس