تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 679
تاریخ احمد میمت - جلد ۵ 651 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به ہمارے انتخاب کی موزونیت اب دنیا پر واضح ہو جائے گی۔والحمد للہ علی ذالک "۔جناب سید حبیب ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کا استعفیٰ اور اخبار "سیاست" صاحب ایڈیٹر سیاست کا اندازہ آئندہ واقعات نے بالکل صحیح ثابت کر دیا چنانچہ ڈاکٹر سرا قبال صاحب نے ۲۰/ جون ۱۹۳۳ء کو ایک بیان میں کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا سید حبیب صاحب نے اس بیان او را استعفیٰ پر اخبار سیاست (۲۴/ جون ۱۹۳۳ء) میں مفصل تبصرہ شائع کیا جو بجنسہ درج ذیل ہے۔سید صاحب نے لکھا:۔ڈاکٹر سر محمد اقبال نے جو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے بعد آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر مقرر ہوئے تھے۔عہدہ صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے آپ نے ایک بیان میں جو اخبارات کو برائے اشاعت دیا گیا ہے کشمیر کمیٹی کے قادیانی ممبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے مذہبی پیشوا کے علاوہ کسی شخص یا جماعت کی وفاداری نہیں کر سکتے۔آپ اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں۔” پبلک کو یاد ہو گا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنا کشمیر کے مسلمانوں کی فوری ضرورت کو مد نظر رکھ کر ڈالی گئی تھی اس وقت یہ خیال نہ تھا کہ اس کمیٹی کی عمر بہت لمبی ہو گی اس لئے اس کے لئے کوئی آئین وضع نہ کیا گیا تھا۔بلکہ صدر کو مطلق العنان اختیارات دیئے گئے تھے جب کشمیر کے حالات کی وجہ سے کشمیر کمیٹی ایک مستقل جماعت بن گئی تو بہت سے ممبروں کو یہ خیال ہوا کہ اس کے لئے ایک باضابطہ آئین بنایا جائے اور اس کے عمدہ داروں کا از سر نو انتخاب کیا جائے اس خیال کو تقویت دینے والا یہ امر بھی تھا کہ بہت سے ممبر کشمیر کمیٹی کی بناوٹ اور اس کے کام سے غیر مطمئن تھے چنانچہ اس مقصد کے لئے کشمیر کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اس کے صدر نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا جو منظور کر لیا گیا۔اس کے بعد گزشتہ اتوار کو کشمیر کمیٹی کا ایک اجلاس برکت علی محمدن ہال میں منعقد ہوا۔اور اس کے سامنے کشمیر کمیٹی کے آئین کا ایک مسودہ پیش کیا گیا۔جس کی غرض یہ تھی کہ کشمیر کمیٹی کو صحیح معنوں میں نمائندہ جماعت بنا لیا جائے بعض ممبران اس مقصد کے مخالف تھے اور عہدوں کے مسئلے پر جو بحث ہوئی اس سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ صاحبان کشمیر کمیٹی کو برائے نام ایک جماعت رکھتے ہوئے اصل میں دو جماعتوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں چنانچہ میں نے اسی وقت اس رائے کا اظہار بھی کر دیا۔بد قسمتی سے کشمیر کمیٹی میں بعض ایسے ممبر بھی ہیں جو اپنے مذہبی پیشوا کے علاوہ کسی اور کی اطاعت تسلیم نہیں کرتے یہ امر اس بیان سے ظاہر ہو گیا تھا جو ایک احمدی وکیل نے جو میرپور کے مقدمات میں پیروی کر رہا تھا۔چند روز ہوئے اخبارات میں شائع کر دیا تھا۔اس نے اس امر کا اعتراف کیا تھا۔کہ اس