تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 675
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 647 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ زور تردید کی اور اسے احسان فراموشی پر محمول کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی اللہ تعالی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔احمد اللہ صاحب ہمدانی میرواعظ سرینگر میراحم اللہ صاحب ہمدانی میر واعظ کشمیر نے لکھا۔اگر چہ میں قادیانیت سے دور ہوں مگر سیاسی مصالح کے لحاظ سے متحدہ محاذ بنانے کے حق میں ہوں کشمیر کمیٹی اور جناب کی انتھک کوشش ہمارے دلی شکریہ کی مستحق ہے جس کی ہر وقت کی امداد اور قیمتی مشوروں نے مشکلات کے حل کرنے میں آسانیاں پیدا کیں۔وائس پریذیڈنٹ انجمن اسلامیہ کو ٹلی نے لکھا۔احرار کمیٹی نے مسلمانوں کو تحہ لحد میں پہنچادیا۔ہم مسلمانان ریاست آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے تہ دل سے مشکور ہیں کہ جنہوں نے اس نازک موقعہ پر جانی و مالی و دماغی امداد دے کر ہمیں مشکور کیا۔اگر کشمیر کمیٹی کا وجود نہ ہو تا تو مسلمانان ریاست ہی معدوم ہو گئے ہوتے "۔مسلمانان سرینگر سرینگر کے مسلمانوں نے اعلان کیا:- ا ہم مسلمانان محله کلاش پورہ محلہ مخدوم منڈو اور محلہ باباندہ گنائی۔۔۔جناب مرزا محمود احمد صاحب نے جو خدمات مسلمانان کشمیر کے لئے فرما ئیں ان کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حضرت امام جماعت احمدیہ آئندہ بھی مسلمانان کشمیر کی اعانت پہلے سے بھی زیادہ فرما ئیں گے۔کیونکہ مسلمانان کشمیر کو ان کی ہمدردی اور مدد کی ہر وقت ضرورت ہے جملہ مسلمانان کشمیر کو جناب ممدوح پر بہت اعتماد اور بھروسہ ہے اور جناب ممدوح کے خلاف پراپیگنڈا کر نیوالے عصر کو کشمیری مسلمان قومی غدار خیال کرتے ہیں۔۔۔جملہ مسلمانان محلہ جات بذریعہ پیر احسن شاہ صاحب پر سرینگر کشمیر - مسلمانان جموں نے لکھا:۔ہم جملہ اسلامی فرقہ جات اہل سنت والجماعت مسلمانان جموں اہلحدیث نقشبندی و قادری اعلان کرتے ہیں کہ اکثر غداران قوم نے یہ غلط طور مشہور کیا۔کہ وکلاء صاحبان مامورہ کشمیر کمیٹی نے ورثاء اہل مقدمات سے محنتانہ لیا اور یہ بھی غلط پرو پیگنڈا کیا گیا۔کہ جماعت احمدیہ نے کشمیر کی آڑ میں اپنی جماعت کی تبلیغ کی انہوں نے قطعا کوئی تبلیغ نہ کی۔بلکہ بنظر ہمدردی ہر گونہ امداد کی۔اور سیاسی معاملات میں ہم کو اس تفریق کی ضرورت نہیں۔کل مسلمان بھائی بھائی ہیں اور سیاسی میدان میں مکمل اتحاد ضروری ہے ہم جناب مرزا محمود احمد صاحب