تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 665 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 665

تاریخ احمدیت جلد ۵ ۲۳- الفضل ۱۳؍ فروری ۱۹۳۲ء صفحہ ۷۔۲۴ مطبوعہ الفضل یکم مئی ۱۹۳۲ء صفحه ۸ -۲۵ مطبوعه الفضل ۲۵/ فروری ۱۹۳۲ء صفحه ۵-۲- -۲۶ مطبوعہ الفضل یکم ستمبر ۱۹۳۲ء صفحه ۵ تا ۱۰ 637 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه ۲۷۔مفتی ضیاء الدین صاحب نے ۱۹۳۴ء میں لاہور کے ایک پبلک جلسہ میں اپنی جلاوطنی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا۔جس وقت چند احراری لیڈروں کی انگیخت پر عامتہ المسلمین کے میں پچیس ہزار افراد جیلوں میں پہنچ گئے تو احرار یکن لیڈر کشمیر گئے اور اس وقت جبکہ ہزاروں مسلمانان پنجاب اور اہل کشمیر جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں سختیاں جھیل رہے تھے۔احرار کے یہ لیڈر حکومت کشمیر کی شاندار موٹروں اور مزین ہاؤس بوٹوں میں کشمیر کے پر فضا مقامات کی سیر میں مشغول تھے انہی پر کیف ایام کے دوران میں اتفاق سے میری ملاقات ان میں سے ایک لیڈر سے ہوئی اور میں نے انہیں مسلمانان کشمیر کی حالت زار کے بعض واقعات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے امداد کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے جواب دیا آپ یہ تمام واقعات قلمبند کر کے میرے حوالہ کر دیں میں ان تکالیف کا ازالہ کرانے کی سعی کروں گا۔لیکن بھائیو۔آہ افسوس میں کس منہ سے کہوں ان احراری بزرگ نے جن پر ایک اسلامی اور دینی بھائی سمجھتے ہوئے اور ایک اسلامی تحریک کا لیڈر جانتے ہوئے میں نے بھروسہ کیا تھا۔میری دستخطی تحریر جنہ مسٹر کالون کے حوالے کر دی۔جس کے طفیل آج میں اپنے وطن سے دور اپنے عزیزوں سے الگ اپنے بال بچوں سے جدا غربت کی حالت میں در بدر مارا مارا پھر رہا ہوں"۔(اخبار اصلاح ۲۷/ نومبر ۱۹۳۴ء صفحه) -۲۸ مسٹر یوسف خان صاحب علیگ، نذیر احمد صاحب عبد القدوس صاحب اور غلام محمد صاحب عبد الرحیم ڈار (سوپور) عبد الغنی صاحب گنائی (سوپور) مولوی محمد یسین صاحب (سوپور) قاضی عبد الغنی صاحب ڈکٹیٹر (بارہ مولا) ۲۹- یاد رہے اس علاقہ میں اس قدر مالیہ لگا دیا گیا تھا جس کی ادائیگی کاشتکاروں کی طاقت سے باہر تھی اور مسلم و غیر مسلم زمیندار ریاست سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ موجودہ مالیہ نا قابل برداشت ہے۔اسے کم کرے ملحقہ انگریزی علاقہ کے اضلاع جہلم راولپنڈی وغیرہ کے برابر کر دیا جائے۔٣٠ الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۳-۴- الفضل ۳/ اپریل ۱۹۳۲ء صفحه ۲ کالم ۳ الفضل ۱۹/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحہ اکالم ۲۔۳۳ شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے اخبار زمیندار میں لکھا۔"ما بہ الامتیاز کشمیر کمیٹی اور مجلس احرار کے درمیان یہ رہا کہ مجلس احرار نے بجائے مشیر بننے کے ہمیشہ ڈکٹیٹر بننے کی کوشش کی اور ہمار ابنیادی اصول ہی تھا کہ ہم بیرونی بھائیوں کی امداد اسی صورت میں لیں گے کہ اس کا تعلق صرف خیر خواہانہ مشوروں تک محدود ہو"۔(بحوالہ الفضل ۱۳۱ جولائی ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۰ کالم ۲) ۳۴- کشمکش صفحه ۱۱۷ ۳۵ بحواله الفضل ۹ / مارچ ۱۹۳۲ء صفحہ ۹ ٣٦ الفضل قادیان مورخه ۳۱/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۲ کالم ۳۷ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۳۱/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۲ کالم الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۸ ۳۹ الفضل ۱۷/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحہ ۲ کالم ۳ الفضل ۲۶/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحہ ۴۔ام الموعود صفحه ۱۷۲ تا ۱۷۶ الفضل ۱۷ار اپریل ۱۹۳۲ء صفحہ ۲ کا لم۔۴۳۔اس جلد میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے جس قدر بیانات بغیر حوالہ درج ہیں وہ سب آپ کے غیر مطبوعہ خود نوشت حالات سے ماخوذ ہیں جو مولف کتاب کے پاس محفوظ ہے۔