تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 661 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 661

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 633 Ax- تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اے ایل ایل بی صدر منتخب ہوئے۔یہ اجلاس بہت کامیاب رہا۔اور اس کے انتظامات کی تکمیل میں خواجہ غلام نبی صاحب گلکار نے بڑی محنت و جانفشانی سے کام لیا۔مسلمانان سوپور نے ایک کھلے جلسہ میں یہ قرارداد پاس کی کہ " یہ اجلاس شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب پریذیڈنٹ مسلم کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔کہ انہوں نے مہربانی فرما کر کانفرنس کے اعلیٰ کارکن اور اپنے دست راست مسٹر غلام نبی صاحب گل کار کو سوپور کا نفرنس کے انتظامات کے لئے بھیجا "۔چوتھا اجلاس بمقام سرینگر اکتوبر ۱۹۳۵ء میں ہوا جس میں صدارت کے فرائض قوم نے جناب چوہدری غلام عباس صاحب کو تفویض کئے۔خواجہ غلام نبی صاحب گلکار اس چوتھے اجلاس کی استقبالیہ کمیٹی کے صدر تھے۔اور آپ ہی کے اہتمام میں چوہدری صاحب کا ایسا شاندار جلوس نکالا گیا جو مہاراجہ صاحب کے تزک و احتشام کی جھلک نمایاں رکھتا تھا۔اور اس کے لئے وردیاں قادیان سے بن۔کر آئی تھیں۔یہ جلوس پانچ کشتیوں میں نکالا گیا۔پانچواں اجلاس ۱۴ مئی ۱۹۳۷ء کو پونچھ میں منعقد ہوا۔اور صدارت دوبارہ شیخ محمد عبد الله صاحب کو سونپ دی گئی۔مسلم کانفرنس کا سیاسی اثر خدا تعالی کے فضل اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی رہنمائی سے مسلم کانفرنس کی شاخیں ریاست کے طول و عرض میں قائم ہو گئیں اور مسلمان ایک ہی سلک میں پرو دیئے جانے لگے۔اور اس تنظیم کی دھاک حکومت کشمیر اور کشمیر کے غیر مسلموں پر ایسی بیٹھ گئی کہ ایک موقع پر جبکہ اس تنظیم کی ورکنگ کمیٹی نے اپنا اجلاس راست اقدام کے لئے پچھوارہ (سرینگر) میں بلایا۔تو وزیر اعظم مسٹر کالون فور ادیلی سے روانہ ہو کر سرینگر پہنچ گئے اور مسلمانان کشمیر کے زعماء سے درخواست کی کہ وہ اجلاس کو ملتوی کریں وہ ان کے مطالبات ماننے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ ان کی درخواست پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔اور اکثر مطالبات منظور کر لئے گئے۔کرنل کالون نے احکام جاری کئے اور تمام کے تمام اسٹنٹ سیکرٹری مسلمان مقرر ہوئے۔اور کئی صوبائی آسامیاں بھی مسلمانوں کو دی گئیں۔اور مسٹرو جاہت حسین صاحب منسٹر مقرر ہوئے۔تحریک آزادی کشمیر کا پانچواں دور قیام کانفرنسی لیڈروں کی طرف سے اتحاد کی اپیل کانفرنس پر ختم ہوتا ہے۔جس سے مسلمانوں کو ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم حاصل ہوا اور ان کی تنظیمی کو ششیں نقطہ عروج تک پہنچ گئیں مگر افسوس اس کے ساتھ ہی مختلف اندرونی و بیرونی مخالف عناصر مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے