تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 654
شیخ عبداللہ کا اعتراف کہ مجلس احرار سے انہیں کوئی امداد نہیں پہنچی که امیر المومن اور ایم مکنده بعضی می رود دالکریم برا اور ان ملات ورود پیک کو اقتدار اور گارا خبری ما است میں سے کشمیر کے مسلمان اسی وقت گزار رہے ہیں وہ آپسے پوشیدہ نہیں ہیں۔انکے سیاسی حقوق کی حفاظت اور انکی محمدنی اور تعلیمی مد رہیں ترقی کیلئے جد جد ایک طرف کثیر کو چاہتا ہے۔اندریں حالات مینی بیرون کشمیر کے مسلمان بھائیوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس گاو میر مین بیماری ایدا د فرما دیں۔آل زنده سے امداد کرنیکے علاوہ ہماری تا نونی اعداد بھی کی ہے اور مالی امداد بھی نہیں صرف انہیں ہے بولتی ہے۔اس لئے ہم برادران ملت ہے پر زور اپیل اور کوسیدھا کرتے ہیں کہ وہ اس کے فنڈز کی مضبوط کرنیکی طری خوری توم فرما دیں تاکہ مالی تنگی کیوں ہے ضروری کاموں میں حرج واقعے نہ ہو۔مجلس احرار نے جو تکالیف جسمانی مظلومان کشیر کی ہمدرد میں برداشت کی میں نکلے ہے نہ دیے مشکور ہیں مگر اسی است کار خسوس کئے بغیر آل انڈ یا کسی کی نیے اس وقت اپنے قیمتی مشوره یا کسے کیتے