تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 649
ن ادم ہیں جاری رکھا۔حتیٰ کہ تمام کارکنوں کو جیل میں ڈال دیا۔اب جور عمائی ہوئی ہو وہ ساتھ کی در سال کرده شرایط کی بنا ہے عمل میں آئی ہو۔میں تو اسکے لے بھی تیار نہ تھا اور بجائے شده ہو کا کی شرط پر نکلنے کے غیر مشروط طور پر نکلنا مناسب خیال کرتا تھا۔جیل کے اندر مشورہ کے نی وہم کا رکنوں کو بند کر مشورہ لیا تو سب کی رائے سوائے ایک فرد واحد کے یہی تھی کہ موجودہ حالات میں دلی طرح نکلنا بہتر ہے۔مجھے اُن سے اتفاق نہ تھا۔لیکن وہ مجھ سے علیدہ ہوئے تو جمع سلام ہوا کہ بعض لوگوں نے ان شرایط پر دستخن الحر وتے ر ایسا کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔اندریں حالات پرا یا کسی ایک شخص کا از جانا مناسب نه ها و سلے یا نے دوبارہ خواہش کی کہ شرایط کے الفاظ یہ لے جائیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ہم سب رہا کر دیے گئے۔مگر وہ لوگ جن پر جلوه یا حمله به ملوانان یا دیگر اسی قسم کے بنیادی مقدمات میں سزا ہوئی ہر وہ تا حال جیل میں ہی پڑاتے ہیں اور گئی ہوں یا لوٹ کے مقدمات ابھی جاری ہیں۔میں یہاں کے مساعدت کا معائیہ کھو رہا ہوں اور اجودہ حالات کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے وزیر اعظم صاحب نے پینچر کا تمام دن مجھے دیا ہے۔زنکی گفت دشتیہ کے بعد میں انکے خیالات مجرم کر ننگا۔ان کے جموں اور میر پور کے سحق بھی دریافت کر رنگا۔حالات کے موافق ہو نیکی صورت مرت انشاء اللہ جموں کے قیدیوں سے بات چیت کرنے کے جاؤنگا۔اور اسکے بعد ہر پور اس غرض سے بانی کا ارادہ رکھتا ہوں اور تمام حالات کو مکمل طور پر جانچے کر ہیں آپ سے سلونگا۔اور آپکے یہاں تشریف لانیکے متعلق بھی مشورہ کرونگا۔میرا خیال ہو کہ ایک اچھے اور اعلا پیمانہ پر یہاں ایک کانفرنس منعقد کیا ہے۔جو آینده در حد عمل کی راہ نمائی میں مدد دے۔یہ مختصر محور پر عرض کر رہا ہوں مفصل ملاقات کے موقع پر عرض کرونگا۔میں خیریت سے ہوں اور امید ہر کہ آپ بھی اخیر میں میں پھر آپکا شکریہ ادا کرتے ہونے اس طریقہ بیا قیمت ہونگے۔کو ختم کرتا ہوں۔ر ہیں ہوں ایگا با تعدار