تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 618
تاریخ احمدیت جلد ۵ 606 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ صاحب فساد کرانے کی نیت سے آئے ہیں صاف بتاتا ہے کہ ریاست کے بعض حکام انگریز افسروں کے احکام کی پوری تعمیل نہیں کرتے۔بلکہ اپنے پاس سے خلاف واقع باتیں شامل کر دیتے ہیں۔ریاست کے حکام کے پاس حکومت کی طاقت ہے۔اور میرے پاس دلیل کی طاقت - ریاست نے حکومت کا زور آزما لیا ہے۔اور اب اگر ریاست نے اصلاح نہ کی۔تو میں دلیل کا زور آزماؤں گا۔میں ایک طرف گورنر کے الفاظ کی نقل کروں گا۔اور دوسری طرف حکام بالا کی تشریح کو اور اسے چھاپ کر تمام ممبران پارلیمینٹ اور انگریزی اخبارات اور ذمہ دار افسران کے پاس بھیجوں گا۔اور پوچھوں گا کہ کیا یہ طریق حکومت کامیاب ہو سکتا ہے ؟ میں اس کے ساتھ انگریز افسروں کی وہ تحریرات درج کروں گا۔جو انہوں نے سید زین العابدین کے نام ارسال کی ہیں۔اور جن میں لکھا ہے کہ انہوں نے قیام امن میں ریاست کی پوری امداد کی ہے۔پھر دنیا اس کو پڑھ کر خود اندازہ لگائے گی کہ گورنر کشمیر کا یہ حکم حکومت کے زور پر تھایا کہ دلیل اور انصاف کے زور پر۔وہ اس امر کا اندازہ لگالے گی کہ انگریز حکام کی منشاء کو ماتحت حکام کس طرح پورا کر رہے ہیں۔اور ان کی آمد سے غریب مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ میرا ہمیشہ سے یقین ہے کہ دلیل تلوار سے زیادہ زبر دست ہے اور باوجود حکومت کشمیر کی طاقت اور اس کے معاونوں کی قوت کے مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر میری کمزوری کے باوجو د مظلوم کی مدد کی کوشش اور انصاف کی تائید آخر کامیاب ہو کر رہے گی۔یہ دنیا لاوارث نہیں۔اس کے اوپر ایک زبر دست خدا نگران ہے وہ ہمیشہ انصاف اور بیچ کی امداد کرتا ہے اور وہ یقیناً اب بھی ان غیر منصفانہ افعال کو جیتنے نہیں دے گا۔تیسری کوشش میں نے یہ کی کہ اپنے انگلستان کے نمائندہ کو تار دی کہ وہ وہاں وزراء اور امراء اور ممبران پارلیمنٹ اور پریس کے سامنے سب حالات رکھیں۔اور انصاف کی طرف توجہ دلائیں۔اس بارہ میں جو کام ہوا ہے۔وہ یہ ہے کہ ایک ذی اثر دوست نے اس بارہ میں وزیر ہند سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔پارلیمنٹ کے بعض ممبروں نے پارلیمنٹ میں سوال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اور بعض ذمہ دار امراء نے اس معاملہ کی طرف خود توجہ کرنے اور اس کی اہمیت کی طرف حکومت کو توجہ دلانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔سوامید ہے کہ انشاء اللہ جلد انگلستان کے لوگوں کی توجہ اس سوال کی طرف ہو جائے گی اور ان کی توجہ کا نیک اثر ہندوستان میں بھی پیدا ہو گا۔چوتھی کوشش میں نے اس بارہ میں یہ کی ہے کہ اپنے ایک نمائندہ کو شملہ بھجوا دیا ہے۔تاکہ وہ وہاں کے ذی اثر لوگوں اور حکام کو مل کر معاملات کشمیر کی طرف توجہ دلائیں۔جنہوں نے یہ کام شروع کر دیا ہے۔اور امید ہے کہ جلد اس کے نیک نتائج نکلنے شروع ہو جائیں گے۔لیکن چونکہ میں اب کشمیر کمیٹی کا صدر نہیں ہوں۔اس لئے یقینا اس کام میں میرے ہاتھ اور بھی مضبوط ہو جائیں گے۔اگر کہے