تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 604 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 604

تاریخ احمدیت جلد ۵ 592 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر برادران ریاست جموں و کشمیر کے نام میرا آٹھواں خط (سلسلہ دوم) برادران السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے گلینسی کمیشن کی رپورٹ کو کلی طور پر تسلیم نہیں کیا نہ ارتداد کے مسئلہ پر خاموشی کی ہے۔نہ جد و جہد بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔میرے خط پر ایک نگاہ ڈالنے سے ثابت ہو سکتا ہے کہ میں کلینسی رپورٹ کو ناقص سمجھتا ہوں ارتداد کے مسئلہ کو اہم اور آئندہ جدوجہد کو ضروری بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ خود مختار حکومتوں میں بھی آزادی کی جدوجہد کا جاری رہنا ضروری ہوتا ہے جس دن یہ جد و جہد بند ہو اسی دن سے غلامی کی روح قوم میں داخل ہونے لگتی ہے اور بظاہر آزاد نظر آنے والی قوم باطن میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے۔میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ ہے کہ کلنسی رپورٹ میں بہت سے امور مسلمانوں کے فائدے کے ہیں اگر مسلمان ان سے فائدہ اٹھا ئیں تو بہت بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہ کہ ارتداد کے مسئلہ کے متعلق اور دو سرے امور کے متعلق جو ناقص ہیں۔ہم جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن جو اچھا کام کلنسی کمیشن نے کیا ہے اس کے بارہ میں شکریہ ادا کرنا چاہئے اور اس کے ذریعہ سے جو طاقت ہمیں حاصل ہوئی ہے اس سے کام لے کر ترقی کی نئی راہیں نکالنی چاہئیں اور جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لئے حالات کے مطابق اس کی صورت بدل دینی چاہئے۔میں نے جو کچھ لکھا اس پر اب تک قائم ہوں میرے نزدیک کشمیر کے لوگوں کا اس میں فائدہ ہے۔میں نے یہ کام لوگوں کی خوشنودی کے لئے نہیں کیا تھا کہ ان کے اعتراض سے ڈر جاؤں۔میں نے بلا غرض یہ کام کیا ہے اور بلا غرض ہی اسے جاری رکھنا چاہتا ہوں۔اگر میں لوگوں کے اعتراض سے ڈر کر اس بات کو چھوڑ دوں جو میرے نزدیک حق ہے تو میں یقیناً خود غرض ہوں گا۔اور میرا سب پہلا کام برباد ہو جائے گا۔وائسرائے صاحب کو خوش کرنا یا مہاراجہ صاحب کو خوش کرنا کوئی بری بات نہیں۔میں مہاراجہ