تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 603
تاریخ احمدیت جلد ۵ 591 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ رکھیں کہ اس طریق کو اختیار کر کے انہیں ذلت نہیں بلکہ عزت حاصل ہوگی۔ایک دو اور باتیں ہیں جن کا ذکر کر کے میں اس خط کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ گو اصلاحات کا اعلان ہو گیا ہے لیکن ظلم تو ابھی تک جاری ہے اس شبہ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوڑتے ہوئے گھوڑے کو یکدم نہیں روکا جا سکتا۔طوفان بھی بیٹھتے ہوئے کچھ وقت لیتا ہے پس ظلم کو جاری ہے لیکن ایسے سامان ہو رہے ہیں کہ انشاء اللہ ظلموں کا بھی انسداد ہو جائے گا۔میں ابھی تفصیل نہیں بیان کرنا چاہتا لیکن یہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے عقل سے کام لیا گیا۔تو تھوڑے سے عرصہ میں ظلم کے روکے جانے کے بھی سامان ہو جا ئیں گے۔انشاء اللہ تعالٰی۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ وکلاء کے متعلق جو اعلان میں نے کیا تھا اس میں بعض غلط فہمیوں سے کچھ الجھن پیدا ہو گئی ہے لیکن میں اس کے لئے کوشش کر رہا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتری کی توقع رکھتا ہوں اور اگر لوگوں کو پوری طرح ڈیفنس کا موقع نہ دیا گیا تو میں انشاء اللہ اور ایسی تدابیر اختیار کروں گا کہ جن سے لوگوں کے اس اہم حق کی طرف حکومت کو توجہ ہو۔تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں نے جو سیاہ نشان لگانے کا اعلان کیا تھا اس کے متعلق مجھے سرینگر سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ سیاہ نشان لگانے کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس نشان کے لگانے کے سبب سے بعض لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔میں نے اس کے متعلق حکومت کشمیر سے خط و کتابت کی ہے اور جو جواب وزیر اعظم کی طرف سے آیا ہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اس بارہ میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔کیونکہ ان کے جواب میں اس امر سے قطعاً انکار کیا گیا ہے۔اور لکھا ہے کہ نہ کسی شخص کو سیاہ نشان لگانے پر سزادی گئی ہے اور نہ مقدمہ ہی چلایا گیا ہے۔اگر یہ بیان درست ہے تو مجھے تعجب ہے کہ رپورٹ دینے والوں کو اتنا بڑا مغالطہ کیونکر لگ گیا۔بہر حال یہ سوال حل ہو گیا ہے کہ سیاہ نشان لگانے کو ریاست کشمیر میں جرم نہیں قرار دیا گیا۔میں اس خواہش کے اظہار پر اس خط کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی مجھے اس موسم گرما میں توفیق دے کہ خواہ چند دن کے لئے ہو کشمیر آکر خود صورت حالات کا معائنہ کر سکوں اور اس ملک کے مرض کو بذات خود دیکھ کر اس کے علاج کی پہلے سے زیادہ تدبیر کرنے کی توفیق پاؤں- و ما توفیقی الا بالله۔واخر دعونا ان الحمد لله رب العلمين خاکسار مرزا محمود احمد صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی