تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 602 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 602

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 590 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ قیدیوں کی آزادی کو سیاسی حقوق سے تعلق نہیں رکھتی۔لیکن ہر قوم جو زندہ رہنا چاہتی ہو اس کا فرض ہے کہ اپنے لیڈروں اور کارکنوں سے وفاداری کا معالمہ کرے اور اگر قومی کارکن قید رہیں اور لوگ تسلی سے بیٹھ جائیں تو یہ امر یقینا خطرناک قسم کی بے وفائی ہو گا۔مسلمانان جموں و کشمیر کو یاد رکھنا چاہئے۔کہ گو وہ بہت سے فلموں کے تلے دبے چلے آتے ہیں۔لیکن پھر بھی ان کی حالت تیموں والی نہ تھی۔کیونکہ جب تک ان کے لئے جان دینے والے لوگ موجود تھے، یتیم نہ تھے لیکن اگر وہ آرام ملنے پر اپنے قومی کارکنوں کو بھول جائیں گے تو یقینا آئندہ کسی کو ان کے لئے تربانی کرنے کی جرات نہ ہوگی۔اور اس وقت وہ یقینا یتیم ہو جائیں گے پس انہیں اس نکتہ کو یا درکھنا چاہئے اور ملک کی خاطر قربانی کرنے والوں کے آرام کو اپنے آرام پر مقدم رکھنا چاہئے۔پس ان کا یہ فرض ہے کہ جب تک مسٹر عبداللہ صاحب قاضی گوہر الرحمن صاحب اور ان کے ساتھی آزاد نہ ہوں۔وہ چین سے نہ بیٹھیں اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس کام میں میں ان کی ہر ممکن امداد کروں گا اور اب بھی اس غرض کے پورا کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہوں مشکلات ہیں لیکن مسلمان کو مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئے۔یہ بھی یاد رہے کہ بعض۔۔۔۔آئندہ اصلاحات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اہل کشمیر اگر اس فریب میں آگئے اور آئندہ کو نسلوں میں مسٹر عبد اللہ کے دشمن اور قومی تحریک کے مخالف ممبر ہو گئے تو سب محنت اکارت جائے گی اور مسٹر عبد اللہ اور دوسرے قومی کارکنوں کی سخت ہتک ہو گی پس اس امر کے لئے آپ لوگ تیار رہیں کہ اگر خدانخواستہ قومی کارکنوں کو جلدی آزادی نہ ملی۔اور ان کی آزادی سے پہلے اسمبلی کے انتخابات ہوئے (گو مجھے امید نہیں کہ ایسا ہو) تو ان کا فرض ہونا چاہئے کہ کے مقابلہ میں قومی کام سے ہمدردی رکھنے والوں کو امید وار کر کے کھڑا کر دیں۔اور یہ نہ کریں کہ کانگریس کی نقل میں بائیکاٹ کا سوال اٹھا دیں۔بائیکاٹ سے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔کیونکہ آخر کوئی نہ کوئی ممبر تو ہو ہی جائے گا۔اور قومی خیر خواہوں کی جگہ قومی غداروں کو ممبر بننے کا موقعہ دینا ہرگز عظمندی نہ کہلائے گا پس گو یہ ایک بہت طول امل ہے کہ قومی کارکنوں کی آزادی سے پہلے اسمبلی کا انتخاب ہو۔لیکن چونکہ بعض قومی غدار اندر ہی اندر اس کی تیاریاں کر رہے ہیں اہل جموں و کشمیر کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی خواجہ سعد الدین صاحب شال خواجہ غلام احمد صاحب اشاعی اور وسرے کارکنوں کو جن کی گزشتہ قومی خدمات کا انکار نہیں ہو سکتا۔توجہ دلاتا ہوں کہ اب وقت ہے کہ وہ قومی تحریکات کو مضبوط کرنے کے لئے اختلاف چھوڑ دیں۔میں ہمیشہ ان کا خیر خواہ رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان کی گزشتہ خدمات قومی تحسین کا انعام حاصل کئے بغیر نہ رہیں۔پس میں ان سے اور ان کے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قومی کارکنوں کی خدمت میں آکر شامل ہو جا ئیں۔اور یقین رو